ایکنا: مسجد "صفا" شمال مغربی علاقے میں روایتی و جدید طرزِ تعمیر کے امتزاج کے باعث اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔
ایکنا نیوز- ڈیلی نیوز کے مطابق مسجد ’’صفا‘‘ ۲۰۱۳ء میں ۱۲۵۰ مربع میٹر رقبے پر ایک چھوٹے مذہبی کمپلیکس کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ اس مسجد میں بیک وقت ۹۰۰ افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ عبادت گاہ کے علاوہ مسجد میں کانفرنس ہال اور کھیلوں کی سہولیات بھی موجود ہیں، جس کے باعث بورسا اور ترکیہ کے دیگر شہروں سے آنے والے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
اس مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی متحرک چھت ہے، جس کا نظامِ کار گاڑی کی سن روف سے مشابہ ہے۔ گنبد کا ۱۲۰ مربع میٹر رقبے پر مشتمل شیشے کا حصہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کھولا اور بند کیا جا سکتا ہے۔ گرمیوں کے گرم مہینوں میں یہ نظام مسجد کے اندر قدرتی ہوا کی آمدورفت کو ممکن بناتا ہے۔
یہ منفرد ڈیزائن روایتی مذہبی فنِ تعمیر کو جدید انجینئرنگ کے ساتھ جوڑتا ہے۔ عام مساجد کے برعکس مسجد صفا میں فانوس موجود نہیں، بلکہ اندرونی روشنی کے لیے ایل ای ڈی لائٹس استعمال کی گئی ہیں، جو مسجد کے سادہ اور کم سے کم آرائشی طرزِ تعمیر سے ہم آہنگ ہیں۔
بورسا بدستور اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے بڑی تعداد میں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے۔ بورسا کے صوبائی محکمہ ثقافت و سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق، ۲۰۲۵ء میں ۱۷ لاکھ ۶۰ ہزار سے زائد افراد نے صوبے کے مختلف رہائشی مراکز میں قیام کیا۔
اس شہر کا عثمانی ورثہ، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے، بورسا کو ترکیہ کے شمال مغربی علاقے میں سیاحت کے اہم مراکز میں سے ایک بنا دیتا ہے۔/
ویڈیو:





4369842