بین الاقوامی گروپ : برما حکومت کی جانب سے بار بار "دوچار یرتن" نامی گاؤں میں مسلمانوں کے قتل عام سے متعلق حقائق چھپانے کی کوششوں کے باوجود بین الاقوامی اداروں نے برمی حکومت سے قتل عام سے متلعق تحقیقات کو منظر عام پر لانے اور معائنہ کاروں کو ان علاقوں کا آزادانہ دورہ کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

ایران کی قرآنی خبر رساں ایجنسی (ایکنا) نے اطلاع رساں ویب سائیٹ Irrawaddy کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے کہاہے کہ برما کی پارلمینٹ میں مسلمانوں کے نمائندے "شوماونگ"نے اعلان کیا : حکومت کو چاہیے کہ مسلمانوں کو اپنے دیہاتوں کی طرف لوٹنے کی اجازت دیں اور حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو اپنے گھروں کی طرف بازگشت سے روکنا اس گمان کی تقویت کر رہا ہے کہ ان دیہاتوں میں باقی رہ جانے والے ان کے رشتہ دار نسلی فساد کا نشانہ بن چکے ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق ۱۴ جنوری کو برما کے انتہا پسند بوذیوں نے مسلمان نشین گاؤں "دوچار یارتان" پر حملہ کیا اور مسلمانوں کاقتل عام کیا ہے ۔
1361928