مذاكرات ايران كے ایٹمی معاملے كے حل كا بہترين طريقہ

IQNA

مذاكرات ايران كے ایٹمی معاملے كے حل كا بہترين طريقہ

12:20 - September 23, 2006
خبر کا کوڈ: 1498691
اسلامی جمہوریۂ ايران نے پرامن ایٹمی سرگرميوں سے متعلق مسائل كے حل كے لئے ہميشہ تعميری مذاكرات پر زورديا ہے ۔اسی بنا پر ايران كی اعلیٰ قومی سلامتی كونسل كے سيكریٹری ڈاكٹر علی لاريجانی نے اپنے دورۂ شام كے دوران اس اميد كا اظہار كيا ہے كہ ايران اور يورپ كے مذاكرات مفيد اور تعميری راستے پر جاری رہیں گے ۔شامی حكام كے ساتھ ہونے والی ڈاكٹر لاريجانی كی ملاقاتوں میں علاقائی صورت حال ، دونوں ملكوں كے تعلقات ، لبنان میں قيام امن كی كوششوں اور ايران كے ایٹمی معاملے پر تبادلۂ خيال كيا گيا ليكن ايران كا ایٹمی معاملہ ہی دونوں ممالك كے حكام كے مذاكرات كا اہم ترين موضوع تھا اور شام نے بھی پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی سے استفادے كے ايرانی حق كے حصول پر زور ديا اور ايران كے ایٹمی معاملے كے سفارتی حل كا مطالبہ كيا۔ڈاكٹر علی لاريجانی اور يورپی يونين كے شعبۂ خارجہ پاليسی كے سربراہ خاوير سولانا كی بات چيت سے شروع ہونے والے ايران يورپ كے نئے دور كے مذاكرات عالمی ذرائع ابلاغ اور سياسی حلقوں كے اہم ترين موضوع میں تبديل ہوگئے ہیں ۔عالمی برادری كی اكثريت بھی یہ چاہتی ہے كہ ايران كا ایٹمی معاملہ ایٹمی توانائی كی بين الاقوامی ايجنسی آئی اے ای اے كے قوانين كے دائرے میں سفارتی طريقے سے حل ہو ۔بنابریں اقوام متحدہ كی سلامتی كونسل كے ذريعے ايران كی ایٹمی سرگرمياں روكے جانے كی امريكی كوششیں شكست سے دوچار ہوئی ہیں ۔سلامتی كونسل كے مستقل اركان اور جرمنی اور اٹلی نے بھی منگل كے روز نيويارك میں منعقدہ ايك میٹنگ میں ايران كے ایٹمی معاملے كے حل كے لئے سفارتی مذاكرات كی كوششوں پر زورديا ليكن ايران پر پابندياں عائد كئے جانے كی امريكی كوششوں كے بارے میں شديد اختلاف رائے كی وجہ سے كسی نتيجے پر نہیں پہنچ سكے ۔بنابریں امريكی حكام مجبور ہوكر ايران كے ساتھ مذاكرات كے لئے محدود وقت كی ضرورت پر زوردے رہے ہیں ۔امريكی صدر جارج ڈبليو بش نے سی اين اين كو ديئے گئے اپنے انٹرويو میں ايران كے خلاف نفسياتی جنگ میں شدت پيدا كرنے كی غرض سے كہا كہ ایٹمی سرگرمياں روكے جانے كے لئے ايران كی آمادگی كی علامات نہیں ہیں جبكہ اين پی ٹی معاہدے كی رو سے ايران كی پرامن ایٹمی سرگرمياں روكے جانے كی كوئی منطقی دليل نہیں ہے اور ايران بھی پرامن ایٹمی ٹيكنالوجی سے استفادے كے اپنے قانونی حق سے دستبردار ہونے كا كوئی ارادہ نہیں ركھتا ۔اب جبكہ ايران ،يورپ مذاكرات كا نيا دور شروع ہونے والا ہے امريكی حكام صیہونی حلقوں كے ساتھ مل كر اور سياسی دباؤ اور پروپيگنڈا مہم چلا كر ايران كے ایٹمی معاملہ كو سفارتی طريقے سے حل كئے جانے كی بين الاقوامی كوششوں كی راہ میں رخنہ اندازی اور ايران كے ایٹمی معاملے كو سلامتی كونسل كے سپرد كئے جانے كی كوشش كررہے ہیں ۔یہ ايسی حالت میں ہے كہ عالمی برادری ايران كے ایٹمی معاملے كے سفارتی حل پر زور دے رہی ہے جس كا مطلب ہے كہ سلامتی كونسل میں اس معاملے كا جائزہ لئے جانے كا كوئی قانونی جواز نہیں ہے اور صرف آئی اے ای اے اس معاملے كا جائزہ لئے جانے كا اختيار ركھتی ہے ۔دریں اثنا اقوام متحدہ كی جنرل اسمبلی كے سالانہ اجلاس میں صدر مملكت جناب محمود احمدی نژاد كے ذريعے كی گئی ايران كے ایٹمی موقف كی وضاحت عالمی برادری خاص طور سے ترقی پذير ممالك كی طرف سے ايران كے ایٹمی معاملے كے سفارتی حل پر پہلے سے زيادہ زور دينے كا سبب بنی ہے ۔بنابریں امريكی حكام ايران كے ایٹمی معاملے كے سلسلے میں اپنے ناجائز مقاصد كے حصول میں مزيد تنہائی كا شكار ہوگئے ہیں اور ايران كے خلاف نفسياتی جنگ میں شدت پيدا كرنے كے درپے ہیں ۔




نظرات بینندگان
captcha