ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نےبی-بی-سی خبر رساں ايجنسی سے نقل كيا ہے كہ
اسرائيل كا كہنا ہے كہ یہ بم جنوبی لبنان پر حملوں كے دوران جولايی سے اگست كے دوران استعمال كیے گئے تھے۔
اسرائيل میں حكومت اور پارليمنٹ كے درميان تعلقات كے امور كے وزير جيكب ایڈری كا كہنا ہے كہ ’یہ بم لبنان كے كھلے ميدانوں میں حزب اللہ كے ٹھكانوں پر گرائے گئے‘۔
اسرائيلی وزير پارليمنٹ میں اٹھائے گئے ايك سوال كا جواب دے رہے تھے۔
اس سے قبل اسرائيل كا موقف یہ رہا ہے كہ اس نے یہ بم جنوبی لبنان میں حزب اللہ كے ٹھكانوں كی نشاندھی كے لیے استعمال كیے تھے۔
فاسفورس بموں كا نشانہ والے انسانوں كی جلد بری طرح جھلس جاتی ہے اور لوگوں كو سانس لينے میں دشواری ہوتی ہے۔
ریڈكراس اور حقوق انسانی كے لیے كام والی دوسری تنظيمیں مطالبہ كرتی رہی ہیں كہ فاسفورس بم كو كيميائی بم قرار ديا جائے اور اس كے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔
جيكب ایڈری نے اس كا انكشاف گزشتہ ہفتے پارليمنٹ میں وزير دفاع كی جگہ سوالوں كا جواب ديتے ہوئے كيا۔
جنيوا كنوينشن كے تيسرے پروٹوكول كے تحت فاسفرس بموں كے استعمال لگائی گئی ہے ليكن اسرائيل اور امريكہ نے اس پروٹوكول پر دستخط نہیں كیے ہیں۔
امريكہ عراق میں بھی فاسفورس بموں كا استعمال كر چكا ہے۔