ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی(ايكنا) نے فرانس كی خبر رساں ايجنسی سے نقل كيا ہے كہ بوسنيا كے اسلامی رہنماؤں كی طرف سے وہابيت كے خلاف ايك قرار داد لكھی گئی جو پورے بوسنيا كی مساجد میں ائمہ جماعا ت كے ذريعہ پڑھی گئی ۔
بوسنيا كی اسلامی كونسل كے سر براہ مصطفی سويچ نےكہا كہ جو لوگ معتدل اسلام كو نہیں سمجھ سكتے وہ ملك چھوڑ كر باہر چلے جائیں ۔