ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی(ايكنا) نے Associated press سے نقل كيا ہے كہ ماہر اقتصاد مشہور شيعہ دانشور ديال المقتر جو عراق كے فقراء كی مدد كرنے كی وجہ سے اس ملك كی ہر دلعزيز شخصيت تھے انہیں گذشتہ روز گولی مار كر شہيد كر ديا گيا-
ٹی وی چينل (الشرقیہ)نے اپنی رپورٹ میں اعلان كيا ہے كہ اس چينل كے یہ چھٹے ملازم تھے جو عراق پر امريكہ كے حملہ كے بعد سے قتل ہوۓ ہیں –جناب المقتر المستنصریہ يونيورسٹی میں اقتصاد كے استاد تھے-
اقتصاد كالج كے پرنسپل تقی الموسوی نے ايك ٹيلی فونك انٹر ويو میں المقتر كے بارے میں كہا:وہ ايك متحرك اور محنتی انسان تھے اور ان كے چلے جانے سے طلباء اور اساتذہ پر بہت زيادہ اثر پڑے گا-
الموسوی نے كہا:ہمارے بہت سے دانشوروں كی جان خطرے میں ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو ملك میں كوئی دانشور باقی نہیں بچے گا-