كانفرنس :شيعہ سنی ايك جسم كے دو بازو ہیں، نفاق كی سازش كامياب نہیں ہو گی ۔

IQNA

كانفرنس :شيعہ سنی ايك جسم كے دو بازو ہیں، نفاق كی سازش كامياب نہیں ہو گی ۔

15:33 - January 25, 2007
خبر کا کوڈ: 1521930
بين الاقوامی گروپ :مسلمانوں میں كوئی شيعہ‘ سنّی فساد نہیں‘ شيعہ سنّی ايك جسم كے دو بازوؤں كی مانند ہیں۔ ملّت اسلامیہ میں انتشار پھيلانے اور شيعہ سنّی فسادات كرانے كی امريكی كوششوں كو علماء كرام نے خاك میں ملا ديا ہے۔






ايران كيقرآنی خبر رساں ايجينسی (ايكنا) نے جنگ نيوز سے نقل كيا هے كه مسلمانوں میں كوئی شيعہ‘ سنّی فساد نہیں‘ شيعہ سنّی ايك جسم كے دو بازوؤں كی مانند ہیں۔ ملّت اسلامیہ میں انتشار پھيلانے اور شيعہ سنّی فسادات كرانے كی امريكی كوششوں كو علماء كرام نے خاك میں ملا ديا ہے۔ علماء كا اتحاد برقرار رہے گا۔ محرم الحرام كے موقع پر امن و امان كے قيام اور مذہبی رواداری كيلئے علماء دين اپنا كردار ادا كرتے رہیں گے۔ ان خيالات كا اظہار ممتاز اور جيد علماء كرام نے جماعت اسلامی كراچی كے تحت بدھ كو ادارہ نور حق میں منعقدہ مذہبی رواداری و امن كانفرنس“ سے خطاب كرتے ہوئے كيا۔ كانفرنس كی صدارت جماعت اسلامی پاكستان كے مركزی نائب امير پروفيسر غفور احمد نے كی۔ كانفرنس سے آل شيعہ ايكشن كمیٹی كے مرزا يوسف حسين‘ علامہ محمد سليم حيدر‘ متحدہ مجلس عمل كراچی كے صدر اور جمعيت علمائے پاكستان كے رہنما محمد صديق راٹھور‘ جماعت اسلامی كراچی كے امير ڈاكٹر معراج الہدیٰ صديقی‘ جمعيت علمائے اسلام (س) كے مفتی عثمان يار خان‘ جمعيت اتحاد العلماء كے مولانا عبدالرؤف‘ غرباء اہلحديث كے حافظ محمد سلفی‘ مركزی جمعيت اہلحديث كے محمد افضل سردار‘ علامہ ارشد زاہد‘ مجلس عمل كراچی كے سيكریٹری شيخ رفيق احمد‘ جمعيت علماء اسلام (س) كے قاری سعيد الرحمن‘ اسلامی تحريك كے علامہ ناظر عباس تقوی‘ جماعت غرباء اہلحديث كے حشمت اللہ صديقی‘ جمعيت اتحاد العلماء كے مولانا فقير حسين حجازی، قاری ضمير اختر منصوری‘ غلام فريد‘ ملت جعفریہ رابطہ كونسل كے ايس ايم حيدر‘ مجلس عمل كے ركن قومی اسمبلی محمد حسين محنتی‘ اراكين صوبائی اسمبلی نصراللہ خان شجيع‘ يونس بارائی اور ديگر نے بھی خطاب كيا۔ جماعت اسلامی كراچی كے تحت منعقدہ ”مذہبی رواداری و امن كانفرنس“ میں مولانا محمد نذير سيالوی‘ مولانا محمد خالد حسين جوہری‘ قاری نور‘ قاری محمد اشفاق‘ حافظ محمد جاويد‘ محمد شفيع انصاری‘ رحمت دين كشميری‘ محمد بابر شہزاد‘ افسر حسين‘ شفيق الرحمن‘ قاری منصور احمد‘ حاجی محمد رفيق‘ قاری منير احمد صديقی‘ قاری محفوظ احمد‘ مولانا نورالحق‘ مولانا محمد رحيم‘ مولانا محمد وقار‘ سيف اللہ اسماعيل‘ حبيب احمد حنفی‘ مولانا حليم الرحمن‘ مولانا عنايت الرحمن‘ مولانا محمد حبيب الرحمن‘ عبدالرؤف‘ مولانا غازی شاہ‘ مولانا عبدالقدوس‘ مولانا صديق ساجد‘ مولانا عبدالغفار اويسی‘ محمد اشفاق‘ مولانا محمود شاہ‘ امان اللہ‘ قادر بخش محمد ہاشم‘ سيد اختر‘ مولانا افضل خان ہزاروی‘ آغا نير عباس جعفری‘ غلام سرور‘ قاری ممتاز احمد و ديگر ممتاز اور جيد علماء كرام نے شركت كی۔ پروفيسر غفور احمد نے اپنے صدارتی خطاب میں كہا كہ دشمنوں كی نفاق كی كوئی سازش كامياب نہیں ہوسكتی كيونكہ امت مسلمہ اب متحد ہوچكی ہے۔ انہوں نے كہا كہ مسلمانوں میں فرقہ وارانہ فسادات كرنے كی كوشش كی جارہی ہے مگر امت اب بيدار ہوچكی ہے اور اپنے دشمنوں كو پہچان گئی ہے اور دشمن كی ہر سازش كا مقابلہ كریں گے اور بہت جلد اس دنيا میں اسلامی انقلاب نافذ ہوگا۔ علامہ سليم حيدر نے كہا كہ نبی كريم نے 14 سو سال قبل امت كے اتحاد كی بنياد ركھی تھی مگر آج ہم مختلف گروہوں میں تقسيم ہوگئے ہیں آج ضرورت اس امر كی ہے كہ ہم سب متحد ہوں اور ايك پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ امت كے انتشار كی وجہ قرآن سے دوری ہے۔ مسلمانوں میں كوئی شيعہ‘ سنّی فساد نہیں۔ شيعہ‘ سنی ايك جسم كے دو بازوؤں كی مانند ہیں۔ علامہ مرزا يوسف حسين نے كہا كہ محرم الحرام امن و رواداری كا مہينہ ہے اور امن كا پيغام ديتا ہے مگر دشمن مسلمانوں میں اختلافات پيدا كركے آپس میں لڑانے كی كوشش كررہا ہے۔ انہوں نے كہا كہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پيدا كرنا ہوگا اور برداشت كی قوت پيدا كرنا ہوگی۔ ہمارے درميان جو خامياں ہیں انہیں تلاش كرنا ہوگا اور مشتركہ دشمنوں كا مقابلہ كرنا ہوگا۔ ہم اپنے اتحاد سے دشمن كی ہر سازش كا ڈٹ كر مقابلہ كریں گے۔ ڈاكٹر معراج الہدیٰ صديقی نے كہا كہ اتحاد، امت مسلمہ كی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے كہا كہ سانحہ نشتر پارك كے تحقيقاتی ٹريبونل كو بغير كوئی رپورٹ پيش كئے ختم كرديا گيا جس سے حكومت كے عزائم كا اندازہ لگايا جاسكتا ہے۔ مفتی عثمان يار خان نے كہا كہ ہم اپنے اقدامات سے ثابت كردیں گے كہ ہم آپس میں اتحاد و اخوت چاہتے ہیں۔


نظرات بینندگان
captcha