ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے الجزيرہ سےنقل كيا ہے كہ مصر كے مفتی ﹺ٫علی جمعہ٬٬ نے مسلم علماء كی عالمی يونين كے سربراہ ڈاكٹر قرضاوی كے اس الزام پر كہ ايران سنی اور شيعہ اختلافات كو عراق میں ہوا دے رہا ہے ٫تبصرہ كرتے ہوۓ كہا كہ مذاھب اسلامی كی عالمی كانفرنس میں پيش آنے والے اختلاف نظر اور برے واقعات پر طرفين كو عذر خواہی كرنا چاہیے تاكہ اختلافات ختم ہو سكیں-
انہوں نے مسلمانوں كی تاريخی مشكلات كا ذكر كرتے ہوۓ كہا كہ جب ہم سنی حضرات سے بات كرتے ہیں تو وہ اپنی تاريخی مشكلات كا باب كھولتے ہیں اور جب شيعہ حضرات سے بات ہوتی ہے تو وہ اہلسنت كی طرف سے طول تاريخ میں ڈھاۓ گۓ مظالم كا حوالہ ديتے ہیں علی جمعہ نے مزيد كہا كہ درگذر كرنے كا پہلا مرحلہ عذر خواہی ہے اور پھر اس كے بعد آپس كے اختلافات اور ابہامات كا ازالہ ہوسكتا ہے-