محموداحمدی نژاد كا سعودی عرب كا مختصر دورہ

IQNA

محموداحمدی نژاد كا سعودی عرب كا مختصر دورہ

8:54 - March 04, 2007
خبر کا کوڈ: 1530054
بين الاقوامی گروپ :ايران اور سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ میں فرقہ وارانہ تشدد كو روكنے كے لیے مشتركہ كوششیں كرنے كا عہد كيا ہے۔



ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی ﴿ايكنا﴾ نے بی بی سی كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ ايرانی صدر احمدی نژاد نےسنيچر كے روز سعودی عرب كا مختصر دورہ كيا جس كے دوران انہوں نے شاہ عبداللہ سے ملاقات كی۔



ايرانی صدر سعودی عرب كا یہ پہلا سركاری دورہ تھا جس میں انہوں نےسعودی عرب كے شاہ عبداللہ اور دوسرے حكام سے ملاقات كی۔

ايرانی صدر سعودی عرب پہنچے تو سعودی بادشاہ نے ان كا استقبال كيا۔دونوں رہنماؤں كے درميان باضابطہ مذاكرات كا ايك دور ہوا۔شاہ عبد اللہ اور احمدی نژاد نے عليحدگی میں ملاقات كی جو ڈیڑھ گھنٹے تك جاری رہی۔

ايرانی صدر نے سعودی پہنچ كر كہا كہ ايران اور سعودی عرب دو بڑے مسلمان ملك ہے اور مسلم امہ كی توقعات دونوں ملكوں سے ہیں۔

ايرانی صدر نے كہا كہ ايران اور سعودی عرب كے درميان مضبوط روابط سے مسلم امہ طاقت ور ہوگی اور اس كی اپنی شناخت اور وقار كی حفاظت میں مدد ملے گی۔








سعودی عرب كے بادشاہ عبداللہ نے كہاكہ ايران اور سعودی عرب دو بردار اسلامی ممالك ہیں اور كئی لوگوں كی خواہش كے برعكس دونوں ملكوں كے تعلقات خوشگوار ہیں۔

سعودی عرب كے بادشاہ عبداللہ نے مزيد كہا عالم اسلام كے دشمن دونوں ملكوں كے درميان نفرت كے بيج بونا چاہتے ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے كہ ہم عقل اور حكمت سے ان عزائم كو ناكام بنائیں۔



ايرانی صدر نے سعودی عرب كے دورے پر روانگی كے موقع پر كہا كہ ايران اور علاقے كے كئی دوسرے ملكوں كو پاكستان كے دارالحكومت اسلام آباد میں كچھ اسلامی ممالك كے وزرائے خارجہ كی كانفرنس سے متعلق سوالات ہیں اور وہ جاننا چاہتے ہیں كہ اس كانفرنس میں كن امور پر غور و غوص كيا اور كيا طے پايا۔







ايرانی صدر نے كہا كہ اگر لبنان كی حكومت نے قومی اتحاد بڑھانے كے لیے ايران سے مدد طلب كی تو ايران اس كی ضرور مدد كرے گا۔



نظرات بینندگان
captcha