جنگ احزاب كی آگ بھڑكانے والے اصل میں مدينہ كے یہودی تھے جنہوں نے مختلف قبيلوں اور قريش كے گروپوں منجملہ :بنی سليم ،بنی اسد ،عظفان وغيرہ كو اكسا كر ۱۰ ہزار سے ۲۴ ہزار افراد (مختلف روايتوں كی بنا پر ) پر مشتمل ايك لشكر آمادہ كر كے مدينۃ الرسول پر چڑھائی كردی.اس بڑے لشكر نے شہر مدينہ كا ايك ماہ تك محاصرہ كیے ركھا-مدينہ كے مسلمانوں نے پيغمبر اكرمۖ كی سپہ سالاری میں شہر كے گرد خندق كھود كر ،مدينہ كا دفاع كيا جبكه دوسری طرف مدينہ كے اندر منافقوں كی سازشیں عروج پر پهنچ چكی تھیں- مسلمانوں كے ساتھ عہد و پيمان باندھنے والے یہوديوں نے اپنے اس عہد كو توڑ ديا –ليكن تين ہزار افراد پر مشتمل اسلام كے لشكر نے شجاعت اور استقامت كے عظيم جوہر دكھاۓ اور آخر كار امام علی ۜ كے ہاتھوں دشمن كے قوی ترين اور بہادر ترين سپاہی ٫٫عمرو بن عبدود ٬٬ كے قتل كے بعد ،مشركين كے حوصلے پست ہوگۓاور ايك مدت تك حيران و پريشان رہنے كے بعد ذليل و خوار ہوكر شكست قبول كرنے كے بعد مكہ كی طرف واپس لوٹ گۓ-