ایکنا نیوز- المصری الیوم نے رپورٹ کیا ہے کہ مصر کے ممتاز قاری اور شیخ القراء شیخ احمد نعینہ نے ریڈیو مصر کے لیے قراء کے انتخاب کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی کمیٹیوں میں کسی قسم کی جانبداری یا سفارش نہیں چلتی، بلکہ صرف ایسے افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے جو فنی صلاحیت اور قرآنی معیار پر پورا اترتے ہوں، تاکہ تلاوتِ قرآن کے میدان میں مصر کی تاریخی برتری اور مقام برقرار رہے۔
انہوں نے سیٹلائٹ چینل شمس کے پروگرام "شہری اور ذمہ داری" میں میزبان نافع التراس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر قرآنی صلاحیت رکھنے والے شخص کا درست سفر قرآنِ کریم کے مکمل حفظ اور تجوید کے قواعد پر مکمل عبور سے شروع ہوتا ہے، جس کے بعد وہ ریڈیو قرآنِ کریم کے داخلہ امتحان میں شریک ہوتا ہے، جہاں نہایت سخت معیار اپنائے جاتے ہیں۔
شیخ احمد نعینہ نے بتایا کہ امتحانی کمیٹی کا مقصد صرف خوبصورت آواز رکھنے والے شخص کا انتخاب نہیں، بلکہ ایسے قاری کی تلاش ہوتی ہے جو ایک مکمل قرآنی شخصیت کا حامل ہو، تلاوت میں توازن برقرار رکھنے، طویل سانس لینے اور براہِ راست نشریات کے دوران اطمینان اور اعتماد کے ساتھ تلاوت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ان کا کہنا تھا: ہم ایسے مضبوط اور بے مثال قاری کی تلاش میں ہوتے ہیں، جو میدانِ تلاوت میں بلڈوزر کی مانند قوت اور استحکام کا حامل ہو، نہ کہ صرف اچھی آواز رکھنے والا قاری۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امتحان کا آغاز آواز کے معیار کے جائزے سے ہوتا ہے، اس کے بعد حفظِ قرآن کا امتحان لیا جاتا ہے جس میں قرآنِ کریم کے ہر پارے سے ایک سوال، یعنی مجموعی طور پر 30 سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ آخر میں امیدوار کا ریکارڈنگ ٹیسٹ لیا جاتا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ اس کی آواز ریڈیو نشریات کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔
شیخ احمد نعینہ نے زور دے کر کہا کہ یہ امتحانات انتہائی سخت ہوتے ہیں، کیونکہ انتخابی کمیٹی امیدواروں کو مصر کے اصیل مکتبِ تلاوت کے معیار پر پرکھتی ہے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران کسی نئے قاری کو ریڈیو مصر کے لیے منظور نہیں کیا گیا، کیونکہ امیدوار مطلوبہ معیار اور درکار نمبرات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔/
4363769