ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک "زندگی با آیات" کے سیکریٹریٹ کے سربراہ امیرحسین قزلایاغ نے بتایا کہ اس سال اربعین کے لیے سورۂ سبأ کی آیت 46 کو مرکزی آیت کے طور پر منتخب کیا گیا ہے:
"کہہ دیجیے! میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے لیے دو دو یا ایک ایک ہو کر کھڑے ہو جاؤ، پھر غور و فکر کرو۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ چند تکمیلی آیات بھی منتخب کی گئی ہیں تاکہ مبلغین، قراء اور دینی و ثقافتی کارکن مختلف طبقات کے مطابق قرآن کے پیغام کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کر سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ انتخاب محض علامتی نہیں بلکہ اربعین کے دوران تیار کیے جانے والے تمام ثقافتی مواد، تشہیری مہمات، میڈیا پروگراموں اور دعوتی سرگرمیوں کی بنیاد یہی آیت ہوگی۔
اربعین کے لیے متعدد سطحوں پر قرآنی سرگرمیاں
امیرحسین قزلایاغ کے مطابق اس سال کے پروگرام کئی مراحل پر مشتمل ہیں۔
پہلا مرحلہ ملک بھر میں اربعین سے محروم رہ جانے والے افراد کی ریلیوں اور صوبائی تقریبات سے متعلق ہے، جہاں عوامی تنظیموں کو قرآنی ثقافتی مواد، تعلیمی وسائل اور خصوصی سجاوٹ فراہم کی جائے گی۔
دوسرا مرحلہ ایران کی سرحدوں، خصوصاً مہران بارڈر پر ہوگا، جہاں "زندگی با آیات" کا خصوصی اسٹال قائم کیا جائے گا۔ یہاں قرآنی مبلغین چوبیس گھنٹے موجود رہیں گے، زائرین کے سوالات کے جواب دیں گے، منتخب آیات کی تشریح کریں گے اور فکری و دینی نشستیں منعقد کریں گے۔
اسی طرح نجف سے کربلا تک پیدل سفر کے راستے میں قائم متعدد قرآنی خیموں اور مواکب میں مختصر تفسیری نشستیں اور قرآنی مفاہیم پر گفتگو کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ زائرین جذبۂ حسینی کے ساتھ ساتھ قرآن کی تعلیمات سے بھی فیض یاب ہوں۔
مختلف عمر کے افراد کے لیے الگ انداز
انہوں نے بتایا کہ اس سال کے پروگراموں میں اس قرآنی آیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی جس پر رہبرِ انقلاب اسلامی نے اپنے حالیہ بیانات میں زور دیا تھا، یعنی:
"إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ" (اگر تم واقعی ایمان والے ہو)
انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے کھیل اور تفریحی سرگرمیوں، نوجوانوں کے لیے تعاملی پروگراموں اور بڑوں کے لیے فکری نشستوں اور بالمشافہ گفتگو کے ذریعے قرآن کے پیغام کو ان کی عمر اور ضرورت کے مطابق پیش کیا جائے گا۔
"ہر صفحہ، ایک آیت" منصوبہ
امیرحسین قزلایاغ نے بتایا کہ "ہر صفحہ، ایک آیت" منصوبے کے تحت قرآنِ کریم کے ہر صفحے سے ایک منتخب آیت متعارف کرائی گئی ہے تاکہ قاری صرف تلاوت ہی نہ کرے بلکہ اس آیت کے مفہوم پر بھی غور و فکر کرے۔
اس مقصد کے لیے "مصحفِ زندگی با آیات" تیار کیا گیا ہے، جس کا ہدف روزانہ کی تلاوت کو تدبر اور عملی زندگی سے جوڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ثقافت معاشرے میں رائج ہو جائے تو قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں رہے گا بلکہ زندگی گزارنے کا عملی دستور بن جائے گا۔
4365450