گینه کے استعمار مخالف بادشاہ کے ذاتی قرآن کی واپسی کا مطالبہ

IQNA

گینه کے استعمار مخالف بادشاہ کے ذاتی قرآن کی واپسی کا مطالبہ

8:13 - July 23, 2026
خبر کا کوڈ: 3520489
1
ایکنا: غنا نے ساموری تورى کا ذاتی قرآن واپس کرنے کے لیے فرانس سے مطالبہ کر دیا۔غنا نے ساموری تورى کا ذاتی قرآن واپس کرنے کے لیے فرانس سے مطالبہ کر دیا۔

ایکنا نیوز- عربی 21 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گنی نے ان ممالک کی صف میں شمولیت اختیار کر لی ہے جو اپنے بیرونِ ملک موجود ثقافتی ورثے کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں گنی نے فرانس سے مغربی افریقہ میں فرانسیسی استعمار کے خلاف مزاحمت کرنے والے ممتاز رہنما ساموری تورى (Samore Lafiya Toure)  کے ذاتی قرآنِ کریم کی واپسی کا باضابطہ مطالبہ کیا ہے۔

یہ نادر مخطوطہ اس وقت پیرس کے آرمی میوزیم میں محفوظ ہے۔ ساموری تورى کو 1898ء میں گرفتار کرکے بعد ازاں گبون جلاوطن کیے جانے کے بعد فرانسیسی فوج نے ان کے دیگر ذاتی سامان کے ساتھ اس قرآن کو بھی قبضے میں لے لیا تھا۔

گنی کی یہ درخواست ان بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہے جن کے تحت نوآبادیاتی دور میں مختلف ممالک سے لے جائے گئے تاریخی دستاویزات، مخطوطات اور نایاب کتابوں کی ان کے اصل ممالک کو واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ایتھوپیا اور انڈونیشیا سمیت کئی دیگر ممالک بھی یورپی اداروں میں محفوظ اپنے تاریخی آثار اور دستاویزات کی واپسی کے لیے درخواستیں دے چکے ہیں۔

فرانسیسی اخبار لوموند کے مطابق، گنی کا مطالبہ صرف ساموری تورى کے قرآن تک محدود نہیں بلکہ فرانس میں محفوظ اس کے تحریری و علمی ورثے کی وسیع تر واپسی کی مہم کا حصہ ہے۔

گنی نے اپنے تاریخی مخطوطات اور دستاویزات کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے، جن میں سے بعض عربی زبان یا عربی رسم الخط میں تحریر کیے گئے ہیں۔ گنی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ مخطوطات مغربی افریقہ میں نوآبادیاتی دور سے قبل پروان چڑھنے والی علمی، دینی اور ادبی روایات کا قیمتی حصہ ہیں۔

یہ اقدام گزشتہ ماہ کے وسط میں گنی کے وزیرِ ثقافت، سیاحت اور روایتی صنعتوں موسیٰ سیلا کے پیرس میں واقع آرمی میوزیم کے دورے کے بعد سامنے آیا۔ اس دورے کے دوران گنی کے وفد کو معلوم ہوا کہ ساموری تورى کا ذاتی قرآن میوزیم کے ذخیرے میں محفوظ ہے۔

دستگیری ساموری توره در سال 1898 م

 

یہ قرآنی مخطوطہ کئی دہائیوں سے ساموری تورى کی دیگر ذاتی اشیاء کے ساتھ فرانس میں رکھا ہوا ہے۔

ساموری تورى کے قرآن کی واپسی کا معاملہ پہلی بار 1968ء میں اس وقت سامنے آیا تھا جب گنی کے پہلے صدر احمد سیکو تورى نے ملک کی آزادی کی دسویں سالگرہ کے موقع پر فرانس سے مطالبہ کیا تھا کہ ساموری تورى کا قرآن، تلوار اور روایتی لباس گنی کو واپس کیے جائیں۔/

 

4365500

نظرات بینندگان
captcha