ایکنا نیوزکی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی مقابلۂ قرآن کریم کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس 49ویں قومی مقابلۂ قرآن کریم اور 42ویں و 43ویں بین الاقوامی مقابلۂ قرآن کریم کے انعقاد سے قبل منگل کو منعقد ہوا۔
اجلاس میں اوقاف و امورِ خیریہ کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید مہدی خاموشی، ادارے کے ثقافتی و سماجی امور کے نائب حجۃ الاسلام غلام رضا عادل، ملک کی اعلیٰ قرآنی مقابلہ جاتی رابطہ کمیٹی کے سیکریٹری مہدی قرہ شیخلو، اوقاف کے قرآنی امور کے مرکز کے سربراہ حجۃ الاسلام سید ناصرالدین نوری زادہ اور ادارے کے متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین سید مہدی خاموشی نے کہا کہ قرآنی سرگرمیاں معاشرے کی نجات کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر حالات سازگار رہے تو 49ویں قومی مقابلۂ قرآن کریم کا فائنل صوبہ سیستان و بلوچستان میں منعقد ہوگا، بصورت دیگر تہران ان مقابلوں کی میزبانی کرے گا۔ اگر شرکاء کی موجودگی ممکن نہ ہوئی تو مقابلے آن لائن منعقد کیے جائیں گے۔
انہوں نے بین الاقوامی مقابلۂ قرآن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقابلے بھی ملک کے حالات کے مطابق حضوری یا آن لائن طریقے سے منعقد کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کا واحد ملک تھا جس نے بغیر کسی تعطل کے اپنے بین الاقوامی مقابلۂ قرآن کو ورچوئل انداز میں جاری رکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال اسلامی انقلاب کے شہید رہبر کے وصال کے بعد پہلی مرتبہ قرآنی مقابلے منعقد ہو رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ انتہائی شاندار اور باوقار پروگرام ترتیب دیے جائیں تاکہ اس قرآنی ذمہ داری کو بہترین انداز میں ادا کیا جا سکے۔
اجلاس کے ایک اور حصے میں ملک کی اعلیٰ قرآنی مقابلہ جاتی رابطہ کمیٹی کے سیکریٹری مہدی قرہ شیخلو نے سیستان و بلوچستان میں قومی مقابلوں کے انعقاد کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے 42ویں اور 43ویں بین الاقوامی مقابلۂ قرآن کے انعقاد کے منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ادوار کے مقابلے ایک ہی عرصے میں ہونے کے باعث بعض مراحل آن لائن منعقد کیے جائیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ گزشتہ دور کے مقابلوں کا ابتدائی مرحلہ آن لائن جبکہ حتمی مرحلہ حضوری منعقد کیا جائے، جبکہ نئے دور کے مقابلوں میں پہلے سیمی فائنل مرحلہ آن لائن اور اس کے بعد فائنل مرحلہ حضوری طور پر منعقد کیا جائے۔/
4365394