مجاہد فقیہ اور تحريك مشروطہ كے حقيقی قائد ٫٫سيد محمد طباطبائی ٬٬ كی ولادت(۱۲۵۸ ھ ق)

IQNA

مجاہد فقیہ اور تحريك مشروطہ كے حقيقی قائد ٫٫سيد محمد طباطبائی ٬٬ كی ولادت(۱۲۵۸ ھ ق)

13:57 - December 30, 2007
خبر کا کوڈ: 1616020
آيت اللہ سيد محمد طباطبائی ۱۹ ذوالحجہ كو ٬كربلا میں (ايك قول ی بنا پر تبريز میں)پيدا ہوۓ وہ دس سال كی عمر میں ايران آ گۓ –ابتدائی تعليم حاصل كرنے كے بعد ٬انہوں نے مرزا ابو الحسن جلوہ اور شيخ ھادی نجم آبادی كی خدمت میں فلسفہ اور اخلاق كی تعليم حاصل كی اور پھر مقدس مقامات میں مرزا شيرازی كے درس میں شركت كرنے لگے-
آيت اللہ طباطبائی ٬مرزا بزرگ شيرازی كے توسط سے تمباكو كے حرام ہونے كے واقعہ كے بعد ٬تہران چلے گۓ اور وہاں انہوں نے تحريك مشروطہ كی حمايت میں اپنی سياسی جد وجہد كو توسيع دی –ايت اللہ سيد محمد طباطبائی عظيم مسلمان عالم دين اور ايران كے آزادی طلب علماء اور تحريك مشروطہ كے حقيقی قائدين میں سے تھے –انہوں نے تحريك مشروطہ كے دوسرے قائد آيت اللہ سيد عبد اللہ بھبھانی كے ساتھ مل كر قاجاریہ كے ظلم و ستم كے خلاف جدوجہد میں كليدی كردار ادا كيا –جب مظفر الدين شاہ قاجار كے صدر اعظم عين الدولہ نے آزادی طلب افراد پر شديد دباو ڈالا اور تہران كے حاكم علاء الدولہ نے كچھ تاجروں كو اذيتیں دیں تو ان دو عالی رتبہ علماء نے بہت سے لوگوں كے ہمراہ شہر ری میں حضرت عبد العظيم كے حرم میں پناہ لی اور اس حرم میں دھرنا ديا- اس دھرنا نے مشروطہ كے انقلاب كی راہ ہموار كی –ليكن جب محمد علی شاہ قاجار نے اسمبلی كو توپ سے اڑا ديا تو آی تاللہ سيد عبد اللہ بھبھانی جلاوطن كر دیے گۓ اور آيت اللہ طباطبائی كو ان كے گھر میں نظر بند كر دا گيا –سيد محمد طباطبائی ٬خدا كی راہ میں جہاد اور ايرانی مسلمانوں كی آزادی كے لیے كوشش كے علاوہ ايك آگاہ دانشور اور اسلامی اصولوں اور احكام كا علم ركھتے تھے انہوں نے دينی تعليمات اور علوم كو پھيلانے كے لیے كئی مایہ ناز شاگردوں كی تربيت كی –اس مایہ ناز سياسی اور دينی شخصيت نے قيام مشروطہ كے دوران اور اس كے بعد پيش آنے والی مشكلات كو تحمل كرنے كے بعد آخر كار تقريبا ۱۳۳۹ ھ ق(۱۲۹۹ ھ ش) كو ۸۱ سال كی عمر وفات پائی اور انہیں شہر ری میں حضرت عبد العظيم ۜ كے حرم میں سپرد خاك كر ديا گيا-
نظرات بینندگان
captcha