{ بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كی رپورٹ كے مطابق رائٹر اور دينی متون كے مترجم سيد ابو القاسم حسينی ژرفا نے كہا كہ اس كتاب كا پہلا ترجمہ عربی متن سے ہم آھنگ نہیں ہے ۔
انہوں نے كہا كہ اس ترجمے میں مختلف علوم ادبياتی ۳۰ سالہ تجربے سے استفادہ كيا گيا ہے اور یہ ترجمہ نسل جوان كے لیے مفيد ہو گا ۔
جناب ژرفا نے بتايا كہ اس ترجمے میں ۶ سال كا عرصہ لگے گا اور اميد ہے كہ آئندہ سال تك مكمل ہو جاۓ گا ۔
219129