اپنی تعليم مكمل كرنے كے بعد انہوں نے دينی تعليمات كو پڑھانے كا پيشہ اختيار كيااور اسكولوں میں تعليم دينے كے دوران پاكستان ٬ہندوستان ٬اور دوسرے اسلامی ممالك میں چھپنے والے قرآنی نسخہ جات كی تصحيح اور اعراب گزاری كا آغاز كيا-خاتون پور زنجبر نے ايك طرف قرآن كی تعليم دينے كے طريقوں میں تبديلی اور اس آسمانی كتاب كے صفحات كی خوبصورتی اور دوسری طرف تعليمی كورس كی ایڈیٹنگ اور تصحيح كے لیے كوشش كی-تاكہ نو عمر اور ابتدائی طالب علموں كے لیے قرآن كی تعليم كو آسان بنايا جا سكے ۔ استاد پور زنجبر ۲۷ سال كی عمر میں نابينا ہو گئیں ليكن خواب میں حضرت زہراۜ كوديكھنے سے وہ شفاء پا گئیں۔ پھر انہوں نے اپنی زندگی كو قرآن اور دينی علوم كے لیے وقف كر ديا- ان كی حكومتی اور قومی مركز میں چاليس سال كی محنت كا نتيجہ ٬ايك تعليمی مركز كوكبیہ كی تشكيل ہے۔
انہوں نے سنہ ۱۳۳۸ ھ ۔ ش سے ۱۳٦۳ھ ۔ ش تك قرآن مجيد كو آسان طريقوں سے پڑھانے كے لیے ٦ جلدںو پر مشتمل كتاب" خود آموز و روش تدريس قران مجيد" كی تاليف كی- اس معلمہ قرآن كی دوسری كتاب "خود آموز گفت و گوی حسين و حسن" ہے – خاتون پور زنجبر كی بوقت وفات عمر مبارك ۸۸ سال تھی-