حضرت فاطمہ معصومہ قم (س) آئمہ معصومين(ع) كی نظر میں

IQNA

حضرت فاطمہ معصومہ قم (س) آئمہ معصومين(ع) كی نظر میں

13:55 - April 17, 2008
خبر کا کوڈ: 1643958
امام صادق(ع) فر ماتے ہیں كہ جس نے معصومہ(س) كی زيارت اس كی شان ومنزلت سے آگاہی ركھنے كے بعد كی وہ جنت میں جا ئے گا ۔(بحار ج/۴۸،ص/۳۰۷ )
حضرت معصومہ (س) امام صادق(ع) كی نظر میں:

روی عن القاضی نور اللہ عن الصادق علیہ السلام :

ان اللہ حرما و ہو مكہ الا ان رسول اللہ حرما و ہو المدينۃ اٴلا و ان لامير الموٴمنين علیہ السلام حرما و ہو الكوفہ الا و ان قم الكوفۃ الصغيرۃ اٴلا ان للجنۃ ثمانیہ ابواب ثلاثہ منہا الی قم تقبض فیہا امراٴۃ من ولدی اسمہا فاطمۃ بنت موسی علیہا السلام و تدخل بشفاعتہا شيعتی الجنۃ باجمعہم ۔

امام صادق(ع) سے نقل ہے كہ آپ نے فرمايا: ''خداوند عالم حرم ركھتا ہے اور اس كا حرم مكہ ہے پيغمبر(ص) حرم ركھتے ہیں اور ان كا حرم مدينہ ہے۔ امير المومنين(ع) حرم ركھتے ہیں اور ان كا حرم كوفہ ہے۔ قم ايك كوفہ صغير ہےجنت كے آٹھ دروازوں میں سے تين قم كی جانب كھلتے ہیں ، پھر امام (ع) نے فرمايا :ميری اولاد میں سے ايك عورت جس كی شہادت قم میں ہوگی اور اس كا نام فاطمہ بنت موسیٰ ہوگا اور اس كی شفاعت سے ہمارے تمام شيعہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔۔(بحار ج/۶۰، ص/۲۸۸)

قال الصادق علیہ السلام من زارہا عارفا بحقہا فلہ الجنۃ

امام صادق(ع) فر ماتے ہیں كہ جس نے معصومہ(س) كی زيارت اس كی شان ومنزلت سے آگاہی ركھنے كے بعد كی وہ جنت میں جا ئے گا ۔(بحار ج/۴۸،ص/۳۰۷ )

اٴلا ان حرمی و حرم ولدی بعدی قم

امام صادق(ع) فر ماتے ہیں آگاہ ہو جاوٴ ميرا اور ميرے بیٹوں كا حرم ميرے بعد قم ہے ۔ (بحار الانوار ج/۶۰، ص۲۱۶)

حضرت معصومہ (س) امام رضا(ع) كی نظر میں
- عن سعد عن الرضا علیہ السلام قال : يا سعد من زارہا فلہ الجنۃ ۔

- ثواب الاٴعمال و عيون اخبار الرضا علیہ السلام : عن سعد بن سعد قال : ساٴلت ابا الحسن الرضا علیہ السلام عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر علیہ السلام فقال : من زارہا فلہ الجنۃ

سعد امام رضا(ع) سے نقل فرماتے ہیں كہ آپ نے فرمايا: اے سعد جس نے حضرت معصومہ(س) كی زيارت كی اس پر جنت واجب ہے ۔

”ثواب الاعمال“ اور ”عيون الرضا “ میں سعد بن سعد سے نقل ہے كہ میں نے امام رضا(ع) سے معصومہ(س) كے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمايا حضرت معصومہ(س) كی زيارت كا صلہ بہشت ہے ۔(كامل الزيارات،ص/۳۲۴)

- كامل الزيارۃ : عن ابن الرضا علیہما السلام قال: من زار قبر عمتی بقم فلہ الجنۃ

امام جواد(ع) فرماتے ہیں كہ جس نے ميری پھوپھی كی زيارت قم میں كی اس كے لئے جنت ہے ۔(كامل الزيارات،ص/۳۲)

حضرت معصومہ(س) كا مقام و منزلت
اب یہ سوال ذہن میں آتا ہے كہ معصومہ(س) كو معصومہ كا لقب كس نے ديا؟

معصومہ كا لقب حضرت امام رضا (ع) نے اپنی بہن كو عطا كيا۔ آپ اس طرح فرماتے ہیں:

من زار المعصومۃ بقم كمن زارنی
جس نے معصومہ(س) كی زيارت قم میں كی وہ اس طرح ہے كہ اس نے ميری زيارت كی ۔( ناسخ التواريخ ، ج/۳ ، ص/۶۸)

اب جب كہ یہ لقب امام معصوم (ع) نے آپ كو عطا فرمايا تو اس كا مطلب یہ ہوا كہ آپ ان كی ہم رتبہ ہیں ۔

امام رضا(ع) نے ايك دوسری حديث میں فرمايا كہ وہ شخص جو ميری زيارت پر نہیں آسكتا وہ ميرے بھائی كی زيارت شہرری میں اور ميری بہن كی زيارت قم میں كرے تووہ ميری زيارت كا ثواب حاصل كرلے گا ۔( زيدۃ التصانيف ، ج/۶، ص/۱۵۹)

دوسرا لقب جو حضرت معصومہ(س) كا ہے وہ ہے ''كريمہ اہل بيت''، یہ لقب بھی ايك عظيم المرتبت عالم دين كے خواب كے ذريعے امام معصوم (ع) كی زبان اقدس سے معلوم ہوا۔

خواب كی تفصيل اس طرح ہے كہ مرحوم آیۃ اللہ سيد محمود مرعشی نجفی جو كہ آیۃ اللہ سيد شھاب الدين مرعشی كے والد بزرگوار تھے، اس عظيم ہستی كی دلی خواہش تھی كہ حضرت صديقہ طاہرہ (س) كی قبر اطہر كاصحيح پتہ مل جائے آپ اس عظيم امر كی خاطر بہت پريشان رہا كرتے تھے ۔ لہٰذا آپ نے ايك عمل شروع كرديا اور چاليس روز تك ختم قرآن كاعمل كرتے رہے، یہاں تك كہ وہ دن بھی آ گيا كہ مرحوم نے اپنے اس چاليس روزہ عمل كا اختتام كيا،آپ كافی تھك چكے تھے لہٰذا آپ نيند كی آغوش میں چلے گئے اور كافی دير تك آپ آرام فرماتے رہے دوران استراحت آپ كی زندگی كی وہ مبارك گھڑی بھی آ پہنچی جس كا انتظار ہر شيعيان علی (ع) كو رہتا ہے يعنی خواب كے عالم میں امام باقر(ع) يا امام صادق(ع) تشريف لے آئے اور آپ ان كی زيارت سے مشرف ہوئے اس وقت امام (ع) نے فرمايا:

«عليك بكريمۃ اہل البيت» كريمہٴ اہل بيت(ع) كے دامن سے متمسك ہوجاوٴ۔
مرحوم آیۃ اللہ سيد محمود مرعشی نجفی (رح) نے سمجھا كہ منظور امام (ع) حضرت زہرا(س) ہیں۔ مرحوم نے عرض كيا میں آپ پر فدا ہوجاوٴں اے ميرے آقا ! میں نے یہ ختم قرآن كا عمل اسی وجہ سے كيا ہے كہ حضرت زہرا(س) كی قبر كا دقيق پتہ معلوم ہوجائے تاكہ بہتر طريقے سے ان كی قبر اطہركی زيارت كرسكوں ۔اس وقت امام(ع) نے فرمايا ميری مراد حضرت معصومہ(س) كی قبر شريف ہے جو كہ قم میں ہے ۔ پھر امام (ع) نے فرمايا :خدا نے كسی مصلحت كی بنياد پر جناب زہرا(س) كی قبر شريف كو مخفی ركھا ہے اور اسی وجہ سے حضرت معصومہ(س)كی قبر اطہر كو تجلی گاہ قبر حضرت زہرا(س) قرار ديا ہے۔

اگر حضرت زہرا(س) كی قبر مبارك ظاہر ہوتی تو اس پر جس قدر نورانيت و جلالت ديكھنے كو ملتی اتنی ہی نورانيت و جلالت خداوند كريم نے حضرت معصومہ(س) كی قبر شريف كو عطا كی ہے۔

مرحوم مرعشی نجفی جيسے ہی خواب سے بيدار ہوئے آپ نے مصمم ارادہ كرليا كہ جلد از جلد بارگاہ معصومہ(س) میں حاضری دیں گے اپنے اس ارادہ كی تكميل كی خاطر آپ نے سامان سفر باندھا اور زيارت حضرت معصومہ(س) كی خاطر نجف اشرف كو ترك كرديا ۔
tebyan.net
نظرات بینندگان
captcha