جبھہ علمائے الازہر نے قرضاوی كے شيعہ مخالف موقف كی حمايت كر دی

IQNA

جبھہ علمائے الازہر نے قرضاوی كے شيعہ مخالف موقف كی حمايت كر دی

11:50 - September 27, 2008
خبر کا کوڈ: 1692110
بين الاقوامی گروپ: جبھہ علمائے الازہر نے اپنے ايك بيانے میں يوسف قرضاوی كےشيعہ مخالف بيانات كی حمايت كا اعلان كيا ہے جس میں اس نے شيعوں كو بدعت گزار كہا تھا!

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے مصری روزنامہ " الاخبار" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ جبھہ علمائے الازہر نے تعصب پر مشتمل ايك بيانیے میں لفظ شيعہ كی دو تعريفیں كرتے ہوئے دعوی كيا ہے كہ شيعوں كا پہلا گروہ وہ تھا جو حديث نبوی میں اہل سنت كے پيشواوں كی روايت كی پيروی اور رسول اكرم ﴿ص﴾ كے صحابہ كا احترام كرتے تھے۔ ۲۳ ستمبر كو صادر ہونے والے اس بيانیے میں قرضاوی كےشيعہ مخالف موقف كی حمايت كے ضمن میں لفظ شيعہ كی دوسری تعريف كرتے ہوئے اس دور كےشيعوں كو " رافضی" اور انھیں عقيدہ كے لحاظ سے گمراہ فرقہ كہا گيا ہے۔ علمائے الازہر نے اس بيانیے میں شيعوں كو بدعت گزار كہا ہے ليكن بدعت كی خصوصيات اور اس كے مراتب كو بيان كرنے سےپرہيز كيا ہے۔ اور قابل توجہ مطلب یہ ہے كہ اہل سنت كے انصاف پسند اور اعتدال پسند بہت سے علمائے نے اس مسئلہ پر شديد نكتہ چينی كی ہے۔ عالم اسلام كےاہم ترين دينی مركز الازہر نے قرضاوی كے شيعہ مخالف موقف كی حمايت كر كے مذہبی تفرقہ اور اختلافات كی فضا كو عملی جامہ پہنايا ہے۔ دوسری جانب شيعہ كے بارے میں اس جبھہ كی غلط تعريف كے بارے میں كہنا چاہیے كہ شيعہ ، پيغمبر اكرم ﴿ص﴾ كے بعد دين كی تفسير اور مسلمانوں كے امور كو ادارہ كرنے كی ذمہ داری ايسےافراد كے كندھوں پر جانتے ہیں جو عصمت اور عدل كے مرتبہ پر فائز ہیں۔ شيعوں كےپہلے امام حضرت علی علیہ السلام ہیں اور حديث متواتر كے مطابق حضرت محمد ﴿ص﴾ نے بارہا اپنی رحلت سے پہلے بالخصوص غدير خم میں واضح طور پر اميرالمومنين حضرت علی ﴿ع﴾ كی جانشينی كا اعلان فرمايا تھا۔
299123

نظرات بینندگان
captcha