قرآن كريم میں سورہ احزاب كی آيت ۳۳ كی روشنی میں حقيقی اہل بيت كی نشاندہی

IQNA

قرآن كريم میں سورہ احزاب كی آيت ۳۳ كی روشنی میں حقيقی اہل بيت كی نشاندہی

12:52 - October 08, 2008
خبر کا کوڈ: 1695559
سورہ احزاب كی آيت ۳۳ كے متعلق مسلمانوں كے درميا ن دو نظریے پائے جاتے ہیں ۔ايك مكتب آيت كے سياق كو ديكھتے ہوئے اس بات كا قائل ہوا ہے كہ یہ آيت گذشتہ آيات كی طرح ازواج سے تعلق ركھتی ہے اور دوسرا مكتب اس بات كا قائل ہے كہ درست ہے كہ یہ آيت ازواج كے متعلق آيات كے درميان موجود ہے ليكن روايات اور دقت نظر اس كی تائيد نہیں كرتی ہیں۔
محقق حوزہ علمیہ قم:طاہر عباس ﴿زيد عزہ﴾

بسم اللہ الرحمن الرحيم

قرآن كريم میں سورہ احزاب كی آيت ۳۳ كی روشنی میں حقيقی اہل بيت كون ہیں ؟

سورہ احزاب كی آيت ۳۳ كے متعلق مسلمانوں كے درميا ن دو نظریے پائے جاتے ہیں ايك مكتب آيت كے سياق كو ديكھتے ہوئے اس بات كا قائل ہوا ہے كہ یہ آيت گذشتہ آيات كی طرح ازواج سے تعلق ركھتی ہے اور دوسرا مكتب اس بات كا قائل ہے كہ درست ہے كہ یہ آيت ازواج كے متعلق آيات كے درميان موجود ہے ليكن روايات اور دقت نظر اس كی تائيد نہیں كرتی ہم نے تاريخ كے اوراق سے اپنے زمانے كے دو علماء شيخ مفيد اور ايك كرابيسی عالم كے درميان ہونے والی گفتگو كا انتخاب كيا ہے جس كے ذريعہ حقيقت كو پايا جا سكتا ہے ۔گفتگو كے آخر میں صرف ان روايات كے ماخذوں كو ذكر كيا ہے جنہیں برادران اہل سنت كے ہاں قابل استناد سمجھتا جاتا ہے۔
مذہب كرابيسی (۱)كے ايك شخص نے كہا : میں نے شيعوں كو ديكھا ہے كہ وہ محال چيز كا دعویٰ كرتے رہیں ۔ وہ گمان كرتے ہیں كہ خداوند كريم كا یہ ارشاد
﴿ انما يريد اللہ ليذھب عنكم الرجس اہل البيت و يطھركم تطہيرا ﴾
(احزاب ۳۳)
حضرت علی (ع) ، حضرت فاطمہ (ع) حضرت حسن و حضرت حسين كی شان میں نازل ہوا ہے حالانكہ آيت كا ظاہر اس بات پر دلالت كرتا ہے كہ وہ ازواج نبی كے بارے میں نازل ہوا ہے ۔
شيخ مفيد نے جواب ديا میں نے باطل كے ارتكاب میں تم سے زيادہ جسارت كرنے والا ، تم سے زيادہ اتہام لگانے والا ، انكار حق میں تم سے زيادہ شديد اورتم سے زيادہ جاہل كو ئی نہیں پايا۔كس نے اس قسم كا استد لال كيا ہے( يعنی یہ آيت اہل بيت (ع) كے بارے میں نہیں ) اور كس نے اجماع اور اتفاق مسلمين كا انكار كيا ہے؟ كيونكہ امت میں سے كسی نے بھی اس بات میں اختلاف نہیں كيا كہ قرآن كی آيات جو نازل ہوئیں ان كے شروع میں ايك چيز بيان ہوتی ہے آخر میں دوسری چيز تو درميان میں ايك اور مطلب بيان ہوتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں كہ چند آيات ايك ہی واقعہ كے بارے میں ہوں اور آپس میں باہم تعلق ركھتی ہوں ۔
مخالفين اور موافقين نے اس كو نقل كيا ہے یہ آيت ’’ انما يريد اللہ ۔۔۔ ‘‘ حضرت ام سلمیٰ رض كے گھر میں نازل ہوئی۔ حضور اكرم ص ُحضرت علی (ع) حضرت فاطمہ (ع) حضرت حسن (ع) اور حضرت حسين حضرت كے ہمراہ حضرت ام سلمی رض كے گھر موجود تھے آنحضرت ص نے اپنی خيبری چادر كو سب كے اوپر اوڑھ ليا اورپھر آپ نے فرمايا ’’ اللھم ھولاء اہل بيتی ‘‘ اس وقت یہ آيت (انما يريد اللہ ....)نازل ہوئی۔رسول اكرم ص نے اس كی تلاوت فرمائی تو حضرت ام سلمیٰرض نے كہا اے اللہ كے نبی ص ! كيا میں آپ كی اہل بيت میں سے نہیں ہوں ؟ رسول اكرم ص نے جواب ديا اس میں كوئی شك نہیں كہ تم خير پر ہو۔ رسول اكرم ص نے یہ نہیں كہا كہ تم بھی ميرے اہل بيت سے ہو ۔
اصحاب حديث نے روايت كی ہے كہ حضرت عمر سے جب اس آیہ كے بارے میں سوال كيا گيا تو انہوں نے جواب ديا حضرت عائشہ سے پوچھئے تو حضرت عائشہ نے جواب ديا كہ یہ آيت
ميری بہن حضرت ام سلمیٰ كے گھر نازل ہوئی ہے وہ مجھ سے زيادہ دانا ہیں تمہیں چاہئے كہ تم ان سے پوچھو كيونكہ وہ اس كے بارے میں مجھ سے زيادہ بہتر جانتی ہیں ۔ اس آيت كے شان نزول كے متعلق اہل سنت اور اہل شيعہ میں سے كسی نے بھی اختلاف نہیں كيا ۔
قرآن كی تاويل كرتے ہوئے اپنے ظن اور گمان كی بجائے اس كو ان معانی پر حمل كيا جائے جن كی تائيد احاديث میں بيان كی گئی ہو۔
آيت كا مضمون بھی ہمارے بيان كردہ مطلب كی ہی تائيد كرتا ہے كيونكہ ارشاد خداوند ہے ’’ انما يريد اللہ ليذھب عنكم الرجس اہل البيت و يطھركم تطہيرا ‘‘ ۔ ( احزاب ۳۳ )
خدا نے ارادہ كيا ہے كہ آپ سے رجس كو دور ركھے اور رجس پليدگی كو كہتے ہیں ۔
پليدگی و برائی سے دوری، گناہوں سے دور رہے بغير ممكن نہیں كيونكہ گناہ بد ترين پليدگی و برائی ہے پس خدا نے انہیں گناہوں سے دور ركھنے كا ارادہ كيا ہے ۔
خدا نے یہاں فعل امر والے ارادے كے علاوہ ايك مخصوص قسم كے ارادے كے متعلق خبر دی ہے ۔( یہ ارادہ خواہش اور طلب كے معنی میں نہیں ہے كہ جو فعل امر میں پايا جاتا ہے جيسا كہ اقيموا (يعنی تم نماز قائم كرو)، میں خدا كی چاہت اور طلب ہے كہ انسان نماز ادا كرے)
كيونكہ اگر آیہ تطہير كا ارادہ اور اس آيت كا ارادہ دونوں ايك ہی معنی میں ہوتے تو پھر آيت تطہير میں چند لوگوں كے ساتھ اپنے ارادہ كومخصوص كرنے كا كوئی فائدہ نہیں ہے۔
میں آيت تطہير اور سورہ بقرہ كی آيت
﴿ يريد اللہ ليبين لكم﴾
اور سورہ نساء كی آيت
﴿يريد اللہ بكم اليسر ولا يريد بكم العسر﴾
میں فرق كروں گا كيونكہ سورہ بقرہ كی ۱۸۵ اور نساء كی آيت ۲۶ میں خدا نے جس ارادہ كو بيان كيا ہے اس كا تعلق تمام مخلوق كے ساتھ ہے جيسا كہ تفاسير میں بھی اسی كو ذكر كيا گيا ہے جبكہ خدا نے آيت تطہير میں چند لوگوں كے ساتھ اپنے اس ارادے كو مخصوص كيا ہے۔ اگر آيت تطہير اور سورہ بقرہ كی ۱۸۵ اور نساء كی آيت ۲۶ ايك ہی معنی میں ہوتے تو پھر آيت تطہير میں چند لوگوں كے ساتھ اپنے ارادے كو خاص كر دينے میں كوئی فائدہ نہیں ہے۔
پس خداوند كريم كا اہل بيت (ع) سے ہر پليدگی و برائی كو دور ركھنے كا مخصوص ارادہ كياہے جس كی وجہ سے وہ ہميشہ گناہ سے دور رہیں گے اور یہی اہل بيت (ع) كی (عصمت كا سبب بنتا ہے جيسا كہ ہم نے شروع میں بيان كيا تھا مسلمانوں نے ازواج رسول اكرم ص كے معصوم نہ ہونے پر اتفاق كيا ہے ۔ یہ اتفاق مسلمين ان لوگوں كی دليل كے بطلان كے لیے كافی ہے جو یہ خيال كرتے ہیں كہ آيت تطہير ازواج كے بارے میںنازل ہوئی ہے۔
جو شخص بھی عربی زبان سے معمولی سی واقفيت و آشنائی ركھتا ہو اس ( آیہ تطہير ازواج كے بارے میں نازل ہوئی ہے ) كا قائل ا ور اعتقاد نہیں ركھے گا بلكہ اس اعتقادكے صحيح ہونے تك كاوہم وگمان نہ كرے گا كيونكہ اہل عرب میں كسی نے بھی اس میں اختلاف نہیں كيا كہ جمع مذكر كی ضمير ’’م ‘‘ اور جمع مؤنث كی ضمير ’’ ن ‘‘ ہیں اور دونوں جمعوں كے درميان ان علامتوں م ا ور ن )سے فرق كيا جاتا ہے ۔ان كے ہاں علامت مؤنث ’’ ن ‘‘ اور علا مت مذكر ’’ م ‘‘ كو ايك دوسرے كی جگہ پر استعمال كرنا بھی
درست نہیں ہے۔ ايسے استعمال كو نہ تو عرب حقيقتاً اور نہ ہی مجازادرست قرار ديتے ہیں۔
خداوند كريم نے جب ازواج رسول ص كو خطاب كرنا شروع كيا تو كہا
﴿ يا نساء النبی لستن كاحد من النساء ان اتقين فلا تخضعن بالقول فيطمع الذی فی قلبہ مرض.......﴾
(احزاب ۳۲)
( اے نبی ص كی بيويو ! تم معمولی عورتوں كی سی تو ہو نہیں اگر تم كو پرہيزگاری منظور ہے تو ( اجنبی آدمی ) سے نرم نرم بات نہ كرو تا كہ جس كے دل میں مرض ہے وہ اور آرزو نہ كرے اور صاف عنوان شائستہ سے بات كيا كرو اپنے گھروں میںبیٹھی رہو ۔۔۔۔)
سے لر كر
﴿اطعن اللہ و رسولہ تك)
یہاں تمام جگہوں پر نبی كی ازواج سے خطاب ،ضمير جمع مؤنث كی علامت ’’ ن ‘‘ كے ساتھ كيا ہے پھر خدا نے اس كے بعد كلام كا انداز بدلا اور مذكر كے ساتھ خطاب كيا
﴿ انما يريد اللہ ليذھب عنكم الرجس اہل البيت ويطہركم تطہيرا ﴾
‘‘ اب یہاں ’’ ن ‘‘ كی بجائے جمع مذكر كی علامت ’’ م ‘‘ كو ذكر كيا پس جب یہاں (آيت تطہير) ’’ن ‘‘كی بجائے ’’م‘‘ كو ذكر كيا تو اس سے ہم نے یہ جان لياكہ آيت تطہير میں خطاب اب ازواج كی جانب متوجہ نہیں ہے جيسا كہ پہلی آيات میں تھا ۔عربی زبان سے آشنائی ركھنے والے كے لئے بالكل واضح ہے پھر اس كے بعد دوبارہ كلام خدا ازواج كی طرف متوجہ ہے اور ارشاد ہے
﴿ واذكرن ما يتلی فی بيوتكن من آيات اللہ و الحكمۃ ان اللہ كان لطيفا خبير﴾
يعنی یہاں پھر علامت مؤنث ’’ نون ‘‘ كو ذكر كيا ہے ۔
یہ اسلوب اور بيان كی تبديلی جس چيز كو ہم نے بيان كيا ہے اس پر دلالت كرتی ہے يعنی يه ايت اہل بيت (ع) كے لیے عصمت و طہارت كہ جو ان كے لیے ايك عظيم فضل ہے كو بيان كرتی ہے۔
مخالفين كے لیے یہ بھی ممكن نہیں كہ كوئی دعویٰ كرے كہ یہاںپر ان ازواج كے ساتھ كوئی مرد يا بچہ تھا اس لیے یہاں كلام كو باب تغليب كی وجہ سے مذكر كی ضمير كومؤنث كی ضمير پر غلبہ ديتے ہوئے ذكر كيا ہے ۔
جب یہ بھی ممكن نہیں ہے تو اب كوئی وجہ باقی نہیں رہتی كہ جو اس بات كا تقاضا كرے كہ كلام میں ازواج كو خطاب كيا گيا ہے بلكہ جس چيز كو ہم نے بيان كيا ہے روايات میں بھی اسی كو ذكر كيا ہے ۔
(البحار ج ۱۰ ص ۴۲۴۔ ۴۲۷)

(۱) مذہب كرابيسی : ابو علی حسين بن علی يزيد المہلبی الكرابيسی كے پيروكاروں كو كرابيسی كہا جاتا ہے ۔ابوعلی حسين بن يزيد فقہ و حديث سے آگاہ اور جبر كا عقيدہ ركھتا تھا۔ كتاب الامامۃاور كتاب المدلسين فی الحديث اس كی تصنيفات ہیں ۔ اس نے كتاب الامامۃ میں حضرت علی (ع) كی تنقيص كی ہے ۔یہ قرآ ن كے بارے میں عقيدہ ركھتا تھا كہ قرآن كلام خدا غير مخلوق ہے اور قرآن كے الفاظ مخلوق ہیں اسی نظریہ كے پيش نظر احمد بن حنبل اور يحی بن معين نے اس كی مذمت كی۔۲۴۵ ھ میں فوت ہوا اور یہ بھی كہا گيا ہے كہ ۴۰۵ ھ میں فوت ہوا ۔
(لسان الميزان ج۲ ص۳۰۳ شمارہ ۱۲۵۳ ابن حجر عسقلانی مؤسسہ اعلمیہ بيروت؛العبر ج۱ص۸۵ ؛الفہرست ،ابن نديم ص۲۳۱،الفن الثالث من مقالۃ الخامسۃ علی اخبار المجبرۃ)
آيت تطہير كے بارے میں اگر احاديث كی كتابوں كا مطالعہ كيا جائے تو یہ بات روز روشن كی طرح واضح ہو جاتی ہے كہ اس آيت سے مراد صرف اور صرف حضرت رسول خدا ص حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، اور حضرت حسين (ع) مراد ہیں۔
جن صحابہ كرام نے اس آيت كے شان نزول كو يا ا س آيت سے ان پانچ افراد كو ذكر كيا ہے ان كی فہرست درج ذيل ہے:
۱:حضرت عائشہ ۲:حضرت ام سلمی ۳:حضرت ابو سعيد خدری ۴:ابن عباس ۵:واثلہ بن اسقع ۶:حضرت انس بن مالك ۷: حضر ت ابو الحمراء ۸: حضرت جعفر طيار ۹:حضرت عمر بن ابی سلمہ ۱۰: حضرت حسن بن علی ۱۱: حضرت سعد بن وقاص
۱)حضرت عائشہ سے جنہوں نے روايت كيا ہے:
صحيح مسلم مسلم بن حجاج ابو الحسين القشيری النيشاپوری م ت ۲۶۱ھ ج ۴ ص۱۸۸۳ح۲۴۲۴ باب فضائل اہل بيت طبع احياء تراث العربی بيروت
مستدرك حاكم حاكم نيشاپوری ج۳ ص۱۵۹ح۴۷۰۷ باب مناقب اہل رسول ،یہ حديث شيخين كی شرائط كے مطابق صحيح ہے طبع دارالكتب العلمیہ
سنن البیہقی حافظ ابو بكر احمد بن حسين بن علی البیہقی م ت ۴۵۸ج ۲ ۵۱۲ ن۲۹۲۵ باب اہل بيت الذين آلہ طبع دار الفكر بيروت
مسند اسحاق ابن راہویہ ، امام اسحاق بن ابراہيم بن مخلد بالحنظلی المروزی م ت۲۳۸ ج ۳ص ۶۷۸ح ۱۲۷۱باب ما يروی عن صفیہ بنت سبیہ طبع مكتب الايمان مدينہ منورہ
مصنف ابی شيبہ ج۶ص۳۷۳ح۳۲۰۹۳باب فضائل علی طبع دار الكتب العلمیہ
۲)حضرت ام سلمیٰ كی روايت كو جنہوں نے ذكر كيا ہے:
الجامع الصحيح محمد بن عيسی ابو عيسی ترمذی ج ۵ ص۶۹۹ح۳۸۷۱ باب فضل فاطمہ طبع اس حديث كو نقل كرنے كے بعد كہا ہے كہ یہ حديث حسن ہے اور اس باب میں سب سے بہتر یہی ہے جسے ذكر كيا ہے جبكہ معقل بن يسار ابو الحمراء اور انس نے بھی اسے نقل كيا ہے۔تحفہ الاشراف ج۱۳ ص۱۲ طبع مكتب الاسلامی میں اس حديث كو حسن اور صحيح تعبير كيا ہے۔
مسند احمد بن حنبل
مسند ابی يعلی احمد بن علی بن المثنیٰ ابو يعلی الموصلی التميمی ج ۱۲ ص۴۵۱ ح۷۰۲۱ باب مسند ام سلمیٰ طبع دار المامون للتراث دمشق
المعجم الكبير ج۳ باب الحاء حسن بن علی ص۵۳ ح۲۶۶۶ اور ص۵۴ ح۲۶۶۸ ج ۲۳ باب ازواج نبی ام سلمیٰص۲۴۹ح۵۰۳ص۲۸۱ح۶۱۲ص۲۸۶ح۶۲۷ص۳۲۷ح۷۵۰ص۳۳۳ح۷۶۸ص۳۳۴ح۷۷۳ص۳۳۷ح۷۸۳ص۳۹۶ح۹۴۷ طبع دار الكتب العلمیہ بيروت
المعجم الاوسط ج۴ ص۱۳۴ ح۳۷۹۹،ج۷ ص۳۱۸ ح۷۶۱۴ ج۲ص۳۷۱ح۲۲۶۰ طبع دار الحرمين
مستدرك الحاكم حاكم نيشاپوری ج۲ص۴۵۱ح۳۵۵۸/۶۹۵ پھر كہا ہے كہ یہ حديث بخاری كی شرائط كے مطابق صحيح ہے اورح۳۵۵۹/۶۹۶ كے بارے میں كہا ہے كہ یہ مسلم كی شرائط كے مطابق صحيح ہے۔
۳)حضرت ابو سعيد خدری سے جنہوں نے نقل كيا :
المعجم الكبير ض۳ ص۵۶ ح۲۶۷۳ باب الحاء حسن بن علی
المعجم الاوسط ج۸ ص۱۱۱ ح۸۱۲۷طبع دار الحرمين
المعجم الصغير ج۱ ص۲۳۱ ح۳۷۵ باب الف ،احمدطبع مكتب الاسلامی
۴)حضرت انس بن مالك سے كی رويت كو جنہوں نے نقل كيا :
مسند احمد بن حنبل
الجامع الصحيح الترمذی ج۵ ص۳۵۲ ح۳۲۰۶ باب تفسير قرآن احزاب
مستدرك حاكم حاكم نيشاپوری ج۳ص۱۷۲ح۴۷۴۸ باب مناقب فاطمہ
المعجم الكبير ج۳ ص۵۶ ح۲۶۷۱ باب الحاء حسن بن علی، ج۲۲ ص۴۰۲ ح۱۰۰۲ باب بنات رسول سن فاطمہ طبع دار احياء تراث العربی
مسند ابی يعلی ج۷ ص۵۹ ص۳۹۷۸ باب علی بن زيد عن انس طبع دار المامون للتراث دمشق
المنتخب من مسند عبد بن حميد حافظ ابو محمد عبد بن حميد م ت ۲۴۹ ج۱ ص۳۶۷ح۱۲۲۳ باب مسند انس بن مالك طبع عالم الكتب بيروت
۵)حضرت عبد اللہ بن عباس كی كی روايات كو جنہوں نے نقل كيا :
مسند احمد بن حنبل
مستدرك حاكم حاكم نيشاپوری ج۳ ص۱۴۳ ح۴۶۵۲ باب معرفۃ الصحابہ اسلام علی ، یہ حديث مسلم كی شرائط كے مطابق صحيح ہے انہوں نے اس سياق كے مطابق ذكر نہیں كيا ۔
المعجم الكبير ج۳ص۵۶ح۲۶۷۴ باب الحاء حسن بن علی ج۲ ۱ص ۷۷ ح۱۲۵۹۳ باب
عين عبد اللہ بن عباس ص۱۰۳ ح۱۲۶۰۴ باب عبد اللہ بن عباس طبع دار احيا ء تراث العربی
المعجم الاوسط ج۳ ص۱۶۵ ح۲۸۱۵ طبع دار الحرمين
السنن الكبریٰ ابو عبدالرحمن احمد بن شعيب النسائی ج۵ ص۱۱۲ ح۸۴۰۹ كتاب الخصائص،ذكر قول النبی فی علی طبع دار الكتب العلمیہ بيروت
۶)حضرت واثلہ بن اسقع سے جنہوں نے نقل كيا ہے:
مسند احمد بن حنبل
مستدرك حاكم حاكم نيشا پوری ج۲ ص۴۵۱ ح۳۵۵۹ باب سورہ احزاب طبع دار الكتب العلمیہ یہ حديث مسلم كی شرائط كے مطابق صحيح ہے اس نے ذكر نہیں كی ہے۔ج۳ ص۱۵۹ ح۴۷۰۶ باب مناقب ا ہل رسول بخاری اور مسلم كی شرائط كے مطابق صحيح ہے۔
المعجم الكبير ج۳ ص۵۵ح ۲۶۶۹ اور۲۶۷۰باب الحاء حسن بن علی ج۲۲ص۶۵ ح۱۵۹ باب واو ،واثلہ ص۶۶ ح۱۶۰ طبع دار احياء تراث العربی
سنن البیہقی ج۲ ص۵۱۸ ح۲۹۴۱ باب من زعم ان آل النبی...طبع دار الفكر
۷)حضرت ابو الحمراء سے جنہوں نے نقل كيا ہے:
المعجم الكبير ج۳ ص۵۶ح۲۶۷۲ باب الحاء،ج ۲۲ ص۲۰۰ ح۵۲۵ باب ھاء ہلال بن حارث طبع داراحياء تراث العربی
المنتخب من مسند عبد بن حميد ج۱ ص۱۷۳ ص۴۷۵ باب ابو الحمراء مولیٰ النبی طبع عالم الكتب بيروت
۸) حضرت جعفر طيار سے جنہوں نے نقل كيا ہے:
مستدرك حاكم حاكم نيشاپوری ج۳ ص۱۵۹ص۴۷۰۹ مناقب اہل رسول طبع دار الكتب العلمیہ یہ حديث بخاری ومسلم كی شرائط كے مطابق صحيح ہے اگر چہ انہوں نے اسے ذكر نہیں كيا۔
مسند البزار ج ۶ ص۲۱۰ ح۲۲۵۱ باب اسماعيل بن عبد اللہ طبع مكتبہ العلوم مدينہ المنورہ
۹)حضرت عمر بن ابی سلمہ سے جنہوں نے نقل كيا ہے:
الجامع الصحيح سنن الترمذی ج۵ ص۳۵۱ ح۳۲۰۵ باب تفسير قرآن احزاب
المعجم الكبير ج۹ ص۲۵ ح۸۲۹۵ باب العين /عمر بن ابی سلمہ
۱۰)حضرت حسن بن علی سے جنہوں نے روايت كو نقل كيا :
مستدرك حاكم حاكم نيشاپوری ج۳ ص۱۸۸ ح۴۸۰۲ مناقب حضرت حسن بن علی
المعجم الكبير ج۳ ص۹۳ ح۲۷۶۱ باب الحاء / حن بن علی
۱۱)حضرت سعد بن ابی وقاص سے جنہوں نے نقل كی :
مستد رك حا كم حاكم نيشاپوری ج۳ص۱۵۹ ح۴۷۰۸

والسلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ

طاہر عباس
نظرات بینندگان
captcha