دنيائے اسلام میں قرآن كی علمی تہذيب كو پيش كرنے كی ضرورت ہے

IQNA

دنيائے اسلام میں قرآن كی علمی تہذيب كو پيش كرنے كی ضرورت ہے

14:00 - December 04, 2008
خبر کا کوڈ: 1715814
بين الاقوامی گروپ: قرآن كريم كی كئی آيات میں علوم كی پيشرفت كے بارے میں وضاحت دی گئی ہے اور مسلمانوں كو چاہیے كہ اس مسئلے كی اہميت كے پيش نظر قرآن كی علمی تہذيب كو پيش كرنے كی ضرورت ہے۔

عراقی طلباء كے خارجہ امور كی ترجمان " ندی عباس العايدی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے عالمی شعبہ سے بات چيت كرتےہوئے كہا ك آداب اور واجبات قرآن كريم میں بيان كر دیےگئے ہیں۔ جيسے نماز ،روزہ،حج ، زكات وغيرہ اور اس بارے میں كئی كتب بھی تاليف كی جا چكی ہیں۔ ليكن قرآن كے سائنسی پہلووں كو جيسے قرآن كا سائنسی اعجاز ہے ا س پر اسلامی معاشروں میں كم توجہ دی گئی ہے۔العابدی نےكہا كہ مغربی دانشوروں نےمختلف تحقيقات كےذريعہ كئی علوم كا سراغ لگايا ہے جن كی طرف قرآن نے اشارہ كيا ہے حتی شايد كہا جا سكتا ہے كہ انھوں نے مسلمان دانشوروں سےبھی اس سلسلے میں زيادہ كام كيا ہے۔ انھوں نے موجودہ قرآنی تفاسير پر تجزیہ و تجليل كرتےہوئے كہا كہ ابھی تك قرآن كی توہين پر مبنی ہیں لہذا دينی رہنماوں كو چاہیے كہ وہ ايسے آثار كی شناخت كریں جن میں مستند مصادر اور قابل اعتماد كتب سے استفادہ كيا گيا ہو۔ اس عراقی محقق خاتون نے دنيائے اسلام كو درپيش چيلنجز اور مسلمانوں كی مشكلات كو بيان كرتےہوئے كہا كہ يورپ كا اسلام كےخلاف پروپيگنڈا جيسے وہ انٹرنیٹ سائیٹوں اور سیٹلائٹ چيلنجز كےذريعہ آگے بڑھا رہا ہے اس كا مقصد اسلامی تہذيب و تمدن كو محو كرنا اور اس كی جگہ مغربی تہذيب كو اہميت دينا ہے۔
327880

نظرات بینندگان
captcha