(بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا") "UOIF" كی جانب سے ايك بيان میں كہا گيا ہے كہ اسرائيل كی طرف سے غير انسانی سلوك پر پريشان ہے۔ غزہاس وقت ايك ايسی بستی بن چكی ہے جہاں پانی، خوراك، بجلی اور دوائيوں كی عدم فراہمی كی وجہ سے زندگی مشكل ہو گئی ہے۔ اسرائيل كے پے درپے حملوں كی وجہ سے شہداء كو دفن كرنے كی مہلت بھی ميسر نہیں ہے۔ پيغام میں كہا گيا ہے كہ عيد الاضحٰی اور حضرت عيسی كی ولادت یہ دو واقعات ہميشہ غزہ میں بسنے والے عيسائيوں اور مسلمانوں كے لیے مل بیھٹنے اور باہمی دينی روابط كو بہتر بنانے كے لیے بہترين مواقع شمار ہوتے تھے ليكن امسال محاصرہ كی وجہ سے نہ تو فلسطينی مسلمان حج كے لیے جا سكےاور نہ ہی حضرت عيسی كی ولادت كے جشن میں شركت كے خواہاں ہزاروں عيسائی بيت المقدس پہنچ سكے۔ آخر میں اس امر كی طرف بھی اشارہ كيا گيا كہ يونين دنيا كے تمام لوگوں سے تقاضا كرتی ہے كہ اس محاصرہ كو ختم كرنے كےلیے اپنی انفرادی اور اجتماعی كوششوں كو بروے كار لائیں۔
338504