عالمی پابندياں اسرائيلی جارحيت كا بہترين حل ہیں

IQNA

عالمی پابندياں اسرائيلی جارحيت كا بہترين حل ہیں

11:24 - January 14, 2009
خبر کا کوڈ: 1730881
بين الاقوامی گروپ: انگلينڈ میں انسانی حقوق كی متحرك كا ركن اور مصنفہ نومی كلين نے انگلينڈ كے اخبار گارڈين میںلكھا ہے كہ فلسطين پر قبضہ اور جارحيت كو ختم كرنے كا بہترين حل یہ ہے كہ عالمی سطح پراسرائيل كا بائيكاٹ كيا جائےاور اس پر اقتصادی پابندياں عائد كر دی جائیں۔
(بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا") خبررساں ويب سائٹ "الجزيرہ نیٹ" كے مطابق نومی كلين نے مضمون میں لكھا ہے كہ اب تك دسيوں یہودی آرٹسٹوں اور اسكالرز نے اسرائيل میں موجود مختلف ممالك كے سفيروں كو پيغام ارسال كیے ہیں جن میں مطالبہ كيا گيا ہے كہ وہ اپنے اپنے ملكوں كے ذريعہ اسرائيل كو روكنے كے لیے دباو ڈالیں ۔ نومی كلين نے یہ بھی كہا ہے كہ غزہ میں اسرائيلی جارحيت كو روكنے كے لیے اسرائيل پر اقتصادی پابندياں عائد كرنا بہترين راہ حل ہو سكتا ہے۔ اسرائيل ۲۰۰۸ء سے اب تك حزب اللہ كے ساتھ جنگ ، غزہ كا محاصرہ اور نئی یہودی بستيوں كی تعمير جيسے جرائم كا مرتكب ہو چكا ہے۔انھوں نے آخر میں لكھا كہ اسرائيل سے روابط ختم كرنے سے اس كی اقتصادی طاقت ختم ہو جائے گی اوراسرائيل غزہ پر جارحيت ختم كرنے كے لیے مجبورہو جائے گا ۔
346861

نظرات بینندگان
captcha