بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" متحدہ عرب امارات كے اخبار " الاتحاد" كے مطابق " آنروا" كے سربراہ " جان جينگ" نے بيت لاہيا كے ايك پرائمری سكول جو كہ فاسفورس بموں كی بمباری سےتباہ ہو چكا ہے میں پريس كانفرنس كرتے ہوئے بين الاقوامی برادری سےسوال كيا ہے كہ بين الاقوامی قوانين اور جنيوا معاہدہ كےمطابق بے گناہ اور نہتے بچوں، بوڑھوں اور خواتين كو قتل كرنا جنگی جرائم میں شامل ہے يا نہیں؟ انھوں نے كہا كہ اسرائيلی بمباری سے ہلاك ہونے والوں میں بيشتر افراد بچے اور خواتين ہیں۔ اس لیے تمام بين الاقوامی قوانين كے تحت اسرائيل اس كا جوابدہ ہے۔ آنروا كے سيكرٹری اطلاعات عدنان ابوحسنہ نے كہا كہ ہم نے غزہ میں ادارے كے تمام دفاتر كے نقشے اسرائيل كو دے دیے ہیں اس لیے ہم ہر صورت میں غزہ میں فعال رہیں گے۔ ابوحسنہ نےكہا كہ اسرائيل نےغزہ میں ہمارے دفتر پر حملہ كر كے اس بين الاقوامی ادارے كی توہين كی ہے۔
350025