بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "ihlessondakida" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ فايمن نے افطارپارٹی میں موجود حاضرين سے خطاب كرتے ہوئے كہا ہے كہ آسٹريا كے مسلمان اور غير مسلم ايك دوسرے كے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور مسلمان اقليتوں كی مشكلات اس ملك كے تمام لوگوں كی مشكلات ہیں لہذا ان كے حل كے لئے كوششیں كرنا چاہیے۔
آسٹريا كے صدر اعظم نے تہذيب نفس كے لئے ماہ مبارك رمضان كو بہتریں موقع قرار ديتے ہوئے كہا كہ مسلمان اس مقدس مہينے میں روزے كو اپنا شرعی فريضہ سمجھ كر انجام ديتے ہیں جو قابل احترام ہے اور اسی طرح ہمیں ايك دوسرے كے نزديك كرنے والی مشتركہ اقدار كی پاسداری كرنا چاہیے۔ آسٹريا كی جماعت اسلامی كے سربراہ "آنس شيكفہ" نے بھی اس افطار پارٹی میں موجود حاضرين سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ عرصہ دراز سے صدر اعظم كے پيلس میں افطارپارٹی كا اہتمام كيا جا رہا ہے جو ايك قطعی سنت بنتی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ بعض شدت پسند عناصر مسلمانوں كو آسٹريا سے نكالنے كی كوششیں كر رہے ہیں جس سے ان مسلمانوں كو انتہائی صدمہ ہو رہا ہے جو اس ملك كی توسيع اور ترقی میں بہت زحمتیں برداشت كر رہے ہیں۔
461772