بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق اسلامی انديشہ كی ترقی كے ثقافتی سنٹر كے بعض مولفين اور محققين نے اس كتاب كو تحرير كيا ہے جو دو جلدوں پر مشتمل ہے۔
اس كتاب كی پہلی جلد میں ولايت فقیہ كے بارے میں بحث كی گئی ہے اور اس ضمن میں ايرانی محقق "احمد جہان بزرگی" كے "نظریہ ولايت فقیہ كا تاريخ پس منظر" كے موضوع پر مقالے كو تحرير كيا گيا ہے جس میں رائٹر نے ولايت فقیہ كے بارے میں فقہاء كے نظريات كو بيان كيا ہے۔ اس كے علاوہ اس كتاب میں "امام خمينی كے نزديك مسئلہ تحريك اور تقريب كی حقيقت اور ولايت فقیہ"، "حجۃ الاسلام والمسلمين عبدالكريم آل نجف كا مقالہ"، "اسلام میں سياسی فلسفہ اور ولايت فقیہ" آيت اللہ علامہ محمد ہادی معرفت كا مقالہ "نظام ولايت فقیہ میں جمہوريت" حجت الاسلام والمسلمين "رضا حق پناہ" كا مقالہ "ولايت فقیہ كا قانون سے رابطہ" اور اسماعيل نعمت اللھی كا مقالہ "امام خمينی كی نظر میں ولايت فقیہ" جيسے موضوعات تحرير كیے گئے ہیں۔
اس كتاب كی دوسری جلد میں امام خمينی اور سياسی فقہ میں خلاقيت اور ديگر موضوعات كو تحرير كيا گيا ہے۔
490147