حج میں برائت از مشركين كے بارے میں بعض شخصيات كا موقف

IQNA

حج میں برائت از مشركين كے بارے میں بعض شخصيات كا موقف

17:06 - November 17, 2009
خبر کا کوڈ: 1850579
بين الاقوامی گروپ: فريضہ حج میں برائت از مشركين كی اہميت كے بارے میں ہميشہ تاكيد كرنے والے قرآن كريم اور روح حج ابراہيمی كے بالعكس بعض دينی اور سياسی شخصيات نے اس مسئلے كے خلاف بيانات جاری كیے ہیں۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے مكہ مكرمہ میں موجود نامہ نگار كی رپورٹ كے مطابق اس موقف كے پيش نظر سعودی مطبوعات میں ايام حج میں برائت از مشركين كی نفی كے بارے میں مطالب كو درج كيا گيا ہے۔
موصولہ رپورٹ كے مطابق احسان اوغلی نے كہا ہے كہ حج كے طريقہ كو تبديل كرنے كا كسی كو حق نہیں ہے اور ۱۴۰۰ سال قبل سے ابھی تك یہ فريضہ اسلام كا ايك ركن ہے لہذا یہ ايك بیہودہ بات ہے اور بہتر ہے كہ ہم اس میں نہ الجھیں۔
اسی طرح سعودی عرب كی عدالتی اعلی كونسل كے سربراہ مسجد الحرام كے خطيب اور امام جمعہ ڈاكٹر صالح بن حميد نے بيت الحرام میں اس ہفتے كے نماز جمعہ كے خطبوں میں كہا ہے كہ برائت از شركت اور مشركين كا اعلان كرنا تمام مسلمانوں كا عقيدہ ہے اور كسی خاص زمانے اور مكان سے مربوط نہیں ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ حج كا سب سے اہم مقصد مسلمانوں كے درميان اتحاد و بھائی چارے كی فضا كو قائم كرنا ہے۔
493944

نظرات بینندگان
captcha