قرآنی آيات سے استفادہ كرتے ہوئے قدس كے یہودی ہونے كا دعوی: یہودی گروپوں كی ايك نئی چال

IQNA

قرآنی آيات سے استفادہ كرتے ہوئے قدس كے یہودی ہونے كا دعوی: یہودی گروپوں كی ايك نئی چال

13:51 - April 17, 2010
خبر کا کوڈ: 1908204
بين الاقوامی گروپ: بعض یہودی گروپوں نے قدس كی تاريخ كو تحريف كرنے كی غرض سے حال ہی میں قدس كے لوگوں كے درميان ايك بروشر تقسيم كيا ہے جس میں قرآن كريم كی آيات اور تورات كے متون سے استفادہ كرتے ہوئے قدس كے یہودی ہونے كو ثابت كرنے كی كوشش كی گئی ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے كويتی روزنامہ "الرای" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ یہودی گروپوں نے اس منشور میں قرآنی آيات اور تورات كے متون سے استفادہ كرتے ہوئے یہ ثابت كرنے كی كوشش كی ہے كہ قدس، عربی اور اسلامی سرزمين نہیں ہے اور اس شہر میں مقيم مسلمانوں كو اس شہر كو چھوڑ دينا چاہیے۔
عرب ليگ كے شعبہ فلسطين اور مقبوضہ سرزمين نے ۱۳ اپريل كو قاہرہ میں عرب ليگ كی كونسل كے ہنگامی اجلاس میں اس خبر كی وضاحت كرتے ہوئے كہا یہودی گروپوں نے اس منشور میں دعوی كيا ہے كہ اسرائيل ايك چھوٹی سی سرزمين ہے جو یہوديوں سے متعلق ہے اور اس سرزمين پر دوسروں كی سكونت ہميشہ كے لئے ممنوع ہے۔
اس منشور میں آيا ہے كہ مومن یہوديوں كو تورات كے دستورات پر عمل كرنا چاہیے كيونكہ تورات میں اس بات پر زور ديا گيا ہے كہ اسرائيل كی سرزمين ابراہيم، اسحاق، يعقوب اور ان كی نسل كے متعلق ہے اور اس مسئلے كو سب قبول كرتے ہیں كہ یہودی امت اسرائيل كی نسل اور ابراہيم، اسحاق اور يعقوب كی نسل سے ہے۔
اس منشور میں قرآن كريم كی سورہ الاسراء كی آيت نمبر ۱۰۴ اور سورہ الاحقاف كی آيت نمبر ۱۲ سے استفادہ كرتے ہوئے قدس كے یہودی ہونے كو ثابت كرنے كی كوشش كی گئی ہے۔
562518

ملا
نظرات بینندگان
captcha