بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق مسلمان طلباء كے تيسرے بين الاقوامی قرآنی مقابلوں میں جرمنی كی نمائندگی كرنے والے طالب علم مجيد سعيدی نيكو نے ايكنا كے نمائندے كے ساتھ خصوصی گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ قرآنی مقابلے در حقيقت مسلمان طلباء كے درميان تعلقات كے فروغ كا ايك بہانہ ہیں اور قرآن مجيد اللہ تعالی كی مضبوط رسی ہے اور اس سے تمسك كرنے والے وسبھی لوگ كامياب ہیں۔
مجيد سعيدی نيكو نے كہا كہ ايران ہميشہ ممتاز اور نامور كا مركز رہا ہے ليكن ان مقابلوں میں شركت كرنے والے قاريوں كے نزديك مقام حاصل كرنا مقصد نہیں ہوتا۔
مجيد سعيدی نيكو نے اس سال منعقد ہونے والے مقابلوں كی كيفيت كو سراہتے ہوئے انہیں ماضی میں ہونے والے مقابلوں كی نسبت بہت بہتر قرار ديا۔
وی در خصوص نوع يادگيری قرآن اظهار كرد: شش ماه زير نظر استاد علی رمضانی كه اصليت افغانی دارد و در آلمان مقيم بود، آموزش ديدم.
732079