فكر و علم گروپ : آيتالله العظمی مظاهری نے ايكنا كے اس سوال كہ آيا روايت «اقرؤا القرآن بلحون العرب و أصواتها» سے لزوم ثابت ہوتا ہے اور قرآن كريم كو عربی لحن كے علاوہ پڑھنا محل اشكال ہے ؟ كے جواب میں فرمايا : اس روايت كا معنی یہ ہے كہ قرآن كو ترتيل كے ساتھ اور تجويد كا خيال ركھ كر پڑھا جائے اور یہ بھی واجب نہیں ہے البتہ قرآنی خوانی كی ترجيحات میں سے ہے ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ( ايكنا ) كے شعبہ حوزہ علمیہ كی رپورٹ كے مطابق آيتالله العظمی مظاهری نے ايكنا كے اس سوال كہ آيا روايت قال رسول الله(صلی الله عليه و آله): «اقرؤا القرآن بلحون العرب و أصواتها» (جامع الاخبار و الآثار/ جلد1) سے لزوم ثابت ہوتا ہے اور یہ شرعی حجت محسوب ہو گی اور قرآن كريم كو غير عربی لحن كے ساتھ پڑھنا اشكال ركھتا ہے ؟ كے جواب میں واضح كيا : اس روايت كا معنی یہ ہے كہ قرآن كو ترتيل اور تجويد كے ساتھ پڑھو اور یہ بھی واجب نہیں ہے بلكہ قرآن پڑھنے كی ترجيحات میں سے ہے ۔
824771