تہران يونيورسٹی كے ايجوكيشنل بورڈ كے ركن غلام رضا نور محمدی نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كے ساتھ بات چيت كرتے ہوئے كہا : اس ڈرامہ سيريل كا دو طرح سے جائزہ ليا جا سكتا ہے ، اولا یہ ايك شر انگيز كام ہے اور ثانيا اسے ايك تاريخی روايت كے طور پر ليا جائے۔
انہوں نے مزيد كہا : حقيقت یہ ہے كہ یہ ايك تاريخی اثر نہیں ہے بلكہ تاريخ كی تحريف ہے لذا اس سيريل كو مختار نامہ يا دوسری تاريخی فلموں كے ہم پلہ نہیں مانا جا سكتا ۔
84300۵