ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے اطلاع رساں ويب سایٹ «arabic.upi.com»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ دين اسلام میں كوئی ايسی شق نہیں ہے كہ جس كا سہارا ليتے ہوئے عيسائيوں كے مقدس مقامات پر حملوں كو نظر انداز كيا جا سكے ۔
فاروق مراد نے مزيد كہا : مسلمانوں نے نائيجيريا كے مسلمانوں اور عيسائيوں كے درميان آتش فتنہ بھڑكانے والے اس قسم كے اقدامات پر كڑی نكتہ چينی كی ہے ۔
قابل ذكر ہے كہ كرسمس ڈے كے موقع پر نائيجيرين دار الحكومت ابوجا كے نزديك واقع ايك گرجا گھر پر حملے كے نتيجے میں ۴۰ افراد ہلاك اور متعدد زخمی ہو گئے تھے ۔
923664