ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ «businessnews»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ "صحبی عتيق" نے تيونسی پارليمنٹ میں ايك خطاب كے دوران ملك كے اساسی قانون كو دينی تعليمات كے مطابق تنظيم كرنے پر بحث كرتے ہوئے دين اور سياست كے باہمی رابطے پر تاكيد كی ہے ۔
انہوں نے اعلان كيا ہے كہ تيونس كا نيا اساسی قانون قرآن كريم اور سنت نبوی﴿ص﴾ كی بنياد پر قائم ہونا چاہيئے اور جو لوگ بھی دين سے تھوڑی بہت آشنائی ركھتے ہیں اس بات كی تصديق كریں گے كہ دين اور سياست كبھی بھی ايك دوسرے سے جدا نہیں تھے كيوںكہ اس الہی دين میں صرف فردی زندگی كے لیے احكام نہیں ہیں بلكہ ان میں سے بيشتر احكام انسانی معاشرے سے بھی تعلق ركھتے ہیں اسی بنياد پر اسلام میں سياست دين كے بغير بے معنی ہے ۔
962747