ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق ،سال ۲۰۰۸ ء سے ماہانہ ميگزين "لومونڈ ڈپلومیٹك" میں نائب صدر كے طور پر كام كرنے والے "ايلن گريش" نے ايك مقالے كے دوران اسرائيلی جيلوں میں بھوك ہڑتال كرنے والے ۲۰۰۰ فلسطينی قيديوں كی صورتحال كا جائزہ ليا ہے ۔
اس مصری نژاد نامہ نگار اور مصنف نے مقالے كی ابتداء میں یہ سوال پيش كرتے ہوئے كہ اگر فلسطين كے بجائے دنيا كے كسی دوسرے ملك میں ۲ہزار قيديوں نے بھوك ہڑتال كی ہوتی تو نتيجہ كيا نكلتا؟ خيال ظاہر كيا ہے كہ كچھ دير كے لیے اس بات كا تصور كریں كہ اگر چين ، روس يا كسی دوسرے بڑے ملك میں ۲ ہزارقيدی كچھ ہفتوں كے لیے بھوك ہڑتال كرتے تو بلاشك دنيا بھر كے ذرائع ابلاغ ان ممالك میں انسان حقوق كی خلاف ورزيوں كے مقابل پر مشتركہ محاذ كھول ليتے اور اپنے ممالك كے سربراہوں سے اس مسئلے خلاف سنجيدہ اقدام اٹھانے اور ملوث ممالك پر پابندياں لگانے كا مطالبہ كرتے ۔
1006883