وسطی ايشيا میں امريكہ اور روس دو مہم كردار ہیں۔ جنہوں نے اس منطقہ كی تعمير و ترقی پر برے اثرات مرتب كئے ہیں۔ اس سارے كھيل میں سياسی پارٹياں اور اسلامی بيداری كوئی اثر انداز نہیں ہو رہی ہیں۔
اس مسئلہ میں ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ''ايكنا'' بين الاقوامی سياسی مسائل كے تجزیہ كار حسن بہشتی پور سے پوچھا تو انہوں نے كہا اس وقت وسطی ايشيا سياسی بے يقينی كا شكار ہے۔ یہ ممالك اپنی آزادی كے بيس سال گذرنے كے بعد بھی سياسی اور اقتصادی ترقی حاصل نہیں كر سكے كيونكہ یہاں كی حكومتیں داخلی مسائل میں ناكام ہیں اور ان كے امور میں ابھی تك كميونزم كے اثرات باقی ہیں۔ خارجی مسائل میں امريكہ اور روس كی وجہ سے بھی اختلافات كا شكار ہیں۔
1032135