ايران كی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے بحرينی روز نامہ الوسط كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ بحرين كے حقوق بشر كے ادارہ جس میں مقامی افراد بھی شامل ہیں۔انہوں نے اس بات كا اظہار كيا ہے كہ بحرين میں حقوق بشر كی كھلم كھلا خلاف ورزی كی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں كہا گيا ہے كہ بحرين میں سياسی قيديوں كی حالت زار بھی نا گفتہ یہ ہے اور ان كو شكنجہ ديا جا رہا ہے اور اس كا كوئی قانون موجود نہیں ہے۔
اس ادارے نے بحرينی قوانين پر بھی نكتہ چينی كی ہے اور اسے بين الاقوامی قوانين كو منافی قرار ديا ہے ۔ مظاہروں پر تبصرہ كرتے ہوئے حقوق بشر كے ادارے كا كہنا ہے كہ بحرين میں پر امن مظاہرين كو ظلم و ستم كا نشانہ بنايا جاتا ہے اور پر امن مظاہرے كے لیے بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔
واضح رہے كہ بحرين میں كسی قسم كے بھی عالمی قوانين موجود نہیں ہیں۔ چنانچہ پر امن مظاہرے میں شركت كرنے پر حقوق بشر كے ادارے كے اہم ركن نيل رجب كو بھی جيل میں ڈال ديا گيا ہے ۔
1100517