ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق حکام کا کہنا تھا کہ متعدد طلبہ مدرسے کی چھت پر آگئے اور نعرے لگانا شروع کردیئے، اور پولیس کو یہ پیغام بھی بھجوایا کہ اس تعیناتی کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جس کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہونگے۔
کیپٹل ایڈمسٹریٹو افسران جن میں اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس حکام بھی شامل تھے، بعد ازاں مدرسے کی انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے آئے جس کے بعد بیشتر دستوں کو جامعہ حفصہ سے ہٹا لیا گیا۔
تاہم پولیس اور رینجرز کی چار، چار موبائلیں جامعہ حفصہ پر اب بھی تعینات ہیں۔
تاہم مذکورہ اقدام کے حوالے سے سرکاری مؤقف سامنے نہیں آسکا جبکہ حکام اس معاملے پر بات کرنے میں تذبذب کا شکار ہیں۔
کچھ افسران کا کہنا تھا کہ یہ تعیناتی مدرسے کی نگرانی، اس کے حوالے سے حساس معلومات جمع کرنے اور یہاں آنے والوں پر نظر رکھنے کے لیے کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات موجودہ صورت حال کے تناظر میں کیا گیا تھا تاہم اس اقدام نے طلبہ اور مدرسے کی انتظامیہ کو برہم کیا۔
قابل ذکر ہے کہ مذکورہ مدرسہ داعش کے اہم حامیوں میں شمار ہوتا ہے۔