ایکنا نیوز- بھارتی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے مسلمان افسر محمد تنزیل کے قتل کی تحقیقات شروع کر دی گئیں بھارتی میڈیا کے مطابق محمد تنزیل پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقات کرنے والی این آئی اے کی ٹیم میں شامل تھے ، اس سے قبل مالے گاؤں بم دھماکوں کی تفتیش اور سمجھوتہ ایکسپریس کے رازوں سے پردہ اٹھانیوالے پولیس افسر ہمنت کرکرے کو بھی قتل کیا جا چکا ہے ۔اب پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کرنے والے مسلمان تفتیشی افسر محمد تنزیل کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ۔
ڈیلی پاکستان کے مطابق نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے افسرمحمد تنزیل اپنی اہلیہ فرزانہ کے ساتھ شادی کی ایک تقریب سے واپس گھر جا رہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی روک کر اندھا دھند فائرنگ کر دی ،محمد تنزیل کو 25کے قریب گولیاں ماری گئیں ، وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ فائرنگ سے ان کی اہلیہ فرزانہ بھی شدید زخمی ہو گئیں ، انہیں 3 گولیاں لگیں ہیں جنہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ٗ حملہ آوور واردات کے بعد فرار ہونے میں با آسانی کامیاب ہو گئے ۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے محمد تنزیل پٹھان کوٹ حملے کے علاوہ بھارت میں دہشت گردی کے دوسرے اور کئی واقعات کی تحقیقات کر ر ہے تھے ۔’’زی نیوز ‘‘ کے مطابق بھارتی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے آئی جی سنجہو کمار کا کہنا ہے کہ محمد تنزیل ایک بہادر اور ایماندار افسر تھے ،ان پر ہونے والا حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی اور مکمل ریکی کرنے کے بعد کیا گیا ،حملہ آوور کون تھے ؟ اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے ،ہم تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔محمد تنزیل کے قتل کے حوالے سے تمام خدشات کو نہ تو رد کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں فوری طور پر قبول کیا جاسکتا ہے ، فی الحال ہم اس واقعہ کو ایک قتل کی واردات کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔