بین الاقوامی گروپ:آج انسان اپنے بہن بھائیوں سے اتنا نزدیک نہیں جتنا (معاشرتی رابطے کی ویب سائٹس یعنی فیس بک، ٹیوٹر، واٹس ایپ، وائبر اور اسی طرح کے دیگر ذرائع پر موجود) انجان دوستوں سے قریب ہے
ایکنا نیوز-سوشل میڈیا کا کمال؛ صبح اٹھ کر ماں باپ کو سلام کرتے ہوں یا نہیں، لیکن اپنا ان بکس ضرور دیکھنا ہوتا ہے۔ ماں باپ کی خدمت کا وقت ہو یا نہ ہو، لیکن فرصت کا کوئی بھی لمحہ ہاتھ آتا ہے تو وہ سوشل میڈیا کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اولاد پر والدین کا کیا حق ہے یہ اگر قرآن کریم سے معلوم کرتے ہیں تو بخوبی پتہ چل جائے گا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: ’’اور والدین کے لئے خاکساری کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکا دو اور اُن کے حق میں دعا کرتے رہو کہ پروردگارا اُن دونوں پر اس طرح رحمت نازل فرما جس طرح انہوں نے بچپنے میں اپنی رحمتیں نچھاور کرکے مجھے پالا ہے۔‘‘ (سورۂ اَسراء آیت ۲۴)
افسوس ناک بات یہ ہے کہ اعلٰی تعلیم یافتہ جوان نسل بھی اپنی عقل کھو بیٹھی ہے۔ جتنی زیادہ تعلیم یافتہ نسل ہے، اتنی ہی زیادہ احمقانہ حرکتوں میں ملوث ہے۔ اب اگر ماں باپ یا بھائی سوشل میڈیا کو کچھ حدود میں رہ کر استعمال کرنے کو کہتے ہیں تو ان کی باتیں روک ٹوک لگتی ہیں، پہلے معاشرہ کیبل نیٹ اور انٹرنیٹ کی تباہ کاریوں پر رونا رو رہا تھا اور اس کی رہی سہی کسر موبائل نے آکر پوری کر دی، اس کے بعد موبائل تک ہی تباہی کی کہانی محدود نہ رہی، پھر موبائل تھری جی اور فور جی کی سہولیات سے مالامال ہوا، دیکھتے ہی دیکھتے فیس بک، ٹیوٹر، واٹس ایپ، وائبر اور اسی طرح کے دیگر ذرائع معاشرے کو اپنے نشے اور سحر میں گرفتار کرنے کا سبب بن گئے۔ پہلے ہم سنا کرتے تھے کہ پڑھے لکھے جاہل، سُن سُن کے سن، پڑھ پڑھ کے پتھر۔ یہ تمام مثالیں آج حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ حضرت علی ؑ فرماتے ہیں: ’’جو صاحبِ فکر نہیں ہے، وہ بصیرت سے خالی ہے۔‘‘ (غررالحکم،ج ۱، ص۱۶۵)
آج ہم گھر اور خاندان کو اپنے ہاتھوں سے تباہی کے دھانے پر لے آئے ہیں، آج گھر اجڑ رہے ہیں، خاندان تباہ ہو رہے ہیں، رشتے برباد ہو رہے ہیں، ازدواجی مسائل اپنے عروج پر ہیں اور یہ تمام نقصانات جدید دور کی جدید ترقی اور جدت (انٹرنیٹ اور موبائل) کے منفی رجحانات کی مرہون منت ہیں۔ آج ہمیں اپنے گھر اور خاندان سے زیادہ اپنے سوشل میڈیا (سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے دوستوں) کی ناراضگی کی زیادہ فکر ہے۔ ہم اپنے خاندان اور مخلص رشتوں سے زیادہ ان مشینی دنیا کے انجان فرینڈز (دوستوں) کے زیادہ قریب ہوچکے ہیں۔ پڑھے لکھے اعلٰی تعلیم یافتہ جوان لڑکے اور لڑکیاں فضول باتوں اور احمقانہ حرکات کرنے میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ آج اگر کسی بھی سائٹس اور آئی ڈی پر دیکھا جائے تو یہ تمام احمقانہ حرکات پوری دنیا ملاحظہ کر رہی ہوتی ہے۔ آج اگر ایک جوتا بھی لینا ہو تو اپنے گروپ میں شامل پنجاب، سندھ، ہندوستان، امریکہ، آسٹریلیا یا دیگر ممالک میں ہزارہا میل دور بیٹھے انجان دوستوں سے مشورہ لیا جاتا ہے کہ میں کس طرح کا جوتا یا چپل لوں؟؟
آج والدین کے لئے جیب میں خرچ کے لئے پیسے نہیں۔ والدین کی خدمت کی فکر نہیں، لیکن گروپ فرینڈز کے خفا ہوجانے کی زیادہ پرواہ ہے۔ باپ کی شفقت اور بزرگی یاد نہیں، لیکن آئی ڈی کے فرینڈز کی محبت جو انجان ہے، اس کی بہت پرواہ ہے۔ آج الله کے اجر اور اس کے ثواب و عقاب کی اتنی پرواہ نہیں، لیکن آئی ڈی پر لائکس اور کمنٹس کی بہت فکر ہے۔ کیا ہمیں قیامت کی گواہی یاد ہے؟ قرآن کہتا ہے: ’’قیامت کے دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں سب گواہی دیں گے کہ یہ کیا کر رہے تھے۔‘‘ (سورۂ نور، آیت ۲۴) آج سوشل میڈیا اس طرح ہماری نفسیات پر حاوی ہے کہ ماں، باپ، بھائی، بہن اور عزیز ترین چاہنے والوں کی نصیحت بھی روک ٹوک لگتی ہے۔ آئی ڈی اور گروپ فرینڈز کے لئے انسان آج اپنے چاہنے والے مخلص اور ہر دکھ درد میں ساتھ دینے والے عزیزوں سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔
خدا کے نبی حضرت عیسٰی ؑ فرماتے ہیں: ’’بے شک دنیا ایک پُل ہے، پس اس کو عبور کرو اور اس کو آباد نہ کرو۔‘‘ (خصال،ص ۳۵) لیکن آج آئی ڈی فرینڈز کے لئے بھائی سے بھی ناراضگی مول لینے کے لئے تیار ہیں۔ نہ ماں باپ کی پرواہ ہے نہ اپنی شخصیت کا مذاق بنانے کی شرم و عقل۔ انجان اور غیر لوگوں کے سامنے اپنے گھریلو معاملات تک بحث کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں، گھریلو معاملات سے لیکر مذہبی معاملات تک اور تعلیمی و تربیتی معاملات سے لیکر علاقائی معاملات تک سوشل میڈیا پر مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ آج کے انسان کو جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق بے جا بولنے اور لکھنے کی (سوشل میڈیائی) شیطانی آزادی مل چکی ہے تو انسان بنا سوچے سمجھے جتنے منہ اتنی باتیں، کے مصداق اوٹ پٹانگ باتیں لکھنے میں مشغول ہے اور ہر بندہ اپنے حصے کا پتھر پھینکنے میں لگا ہوا ہے۔ لیکن حضرت علی ؑ کا یہ نورانی قول یاد رکھنا چاہئے کہ: ’’دنیا بادل کا سایہ اور ایک خواب ہے۔‘‘ (غررالحکم ج ۱، ص ۴۶۴)