ایکنا نیوز- آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا ہےکہ عراق کےعلماء کے نظریات کی برکت سے اس وقت اس ملک کی مختلف قوموں کے درمیان اتحادووحدت قائم ہے اوراس بحرانی دورمیں وحدت کی طرف دعوت دینا ایک اہم ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوجہاد اوراخلاص کی دعوت دی ہے اورانہیں دو چیزوں کے ذریعے وہ آپ کی ہدایت کرتا ہے اوریہ ایک الہی وعدہ ہے۔
شیعوں کےمرجع تقلید نے کہا ہےکہ عراق کا مستقبل روشن ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت عراق کے شیعوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ جو پریشانی کا باعث ہے اوراگرعراق کے شیعوں اورمسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم ہوجائے توعراق کا مستقبل روشن ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ اسلام کے دشمنوں کا ایک ہدف ہمارے جوانوں کو دین اسلام سے دورکرنا ہے اوراگروہ اپنے اس ہدف میں کامیاب ہوگئے تو عالم اسلام کے لیے بہت زیادہ مشکلات کھڑی ہوجائیں گی۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ عراق کےعلماء کو جوانوں پرخصوصی توجہ دینی چاہیے اورانہیں قرآن کریم اور مسجد کی طرف راغب کریں کیونکہ مسجد شیعوں کا ایک ثقافتی سنٹرہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم شیعہ دیگرمسلمانوں کےاعتقادات کا احترام کرتے ہیں تاہم ہم اپنے اعتقادات کو نہیں چھوڑسکتے ہیں اورہم اپنے مقدسات کے پابند ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں ان کی اہانت نہیں کرنی چاہیے،یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کےعلماء میری کتاب تفسیرنمونہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔