ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «انفراد» کے مطابق دارالفتوی مرکز نے شدت پسندوں کے مطالبے کو خیانت قرار دیا ہے
جرمنی کے شہر شهر «ارفورٹ»میں پہلی مسجد کی تعمیر پر شدت پسندوں نے رد عمل ظاہر کیا ہے
شدت پسند نسل پرست گروہ کے لیڈربیورن هوکه، نے مظاہرے میں بینر اٹھایا تھا جس پر لکھا تھا«ہمارا ملک، ہماری ثقافت،ہمار فیصلہ» انکا کہنا ہے کہ مسلمان مساجد بناکر ہم پر تسلط چاہتے ہیں اور ہم ان کو روکنے کا حق رکھتے ہیں!
دارالفتوی کے مطابق مذکورہ نسل پرست گروہ صوبائی اسمبلی میں ایک قانون پاس کرانا چاہتا ہے جسکے مطابق آیندہ مسجد کی تعمیر کے لیے ریفرنڈم منعقد کیا جائے گا اور تمام لوگوں کے فیصلے بعد مسجد کی تعمیر ممکن ہوگی.
اسلامی مرکز نے تمام جماعتوں اور اسلامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اقدام کے
خلاف قانونی طور پر کاروائی کا مظالبہ کریں جو سرعام اسلام کے خلاف میدان عمل
میں اتر آیا ہے
نسل پرست گروہ «آلٹر نیٹو جرمنی» سال ۲۰۱۳ کو بنایا گیا ہے جو مسلم مہاجرت کے سخت مخالف سمجھا جاتا ہے
اسلام مخالف اس گروپ کو گذشتہ سال کے مقامی انتخابات میں خاصا ووٹ ملا تھا اور اس گروپ کو مرکل کی حکمران پارٹی کے لیے اہم حریف اورخطرہ قرار دیا جارہا ہے۔
3501032