ایکنانیوز-اسلام ٹائمز-رکن صوبایی مجلس شوری جمعیت علمائےاسلام اور جے یو پی گلبرگ ٹاون کے صدر مفتی مولانا شوکت حسین مغل رضوی کا کہنا ہے کہ شیعہسنی عوام کو اتحاد و وحدت کے ذریعے اپنا دفاع کرنا چاہیئے، فرقہ واریت اور دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے شیعہ سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد انتہائی ضروری ہے، جس کے بغیر دہشتگرد عناصر کو شکست دینا ممکن نہیں۔ اس حوالے سے جمعیت علمائے پاکستان، مجلس وحدت مسلمین، اسلامی تحریک کو مل کر ایک لائحہ عمل طے کرنا چاہئے، تاکہ وطن عزیز پاکستان سے دہشتگرد تکفیری عناصر کا خاتمہ کیا جاسکے۔ علمائے کرام کو چاہیئے کہ آپس میں متحد ہوجائیں، ان شاء اللہ اگر یہ متحد ہوگئے اور کوئی لائحہ عمل دیا تو شیعہ سنی عوام اس پر لبیک کہے گی۔
ان کا کہنا تحا کہ پاکستان سمیت عالم اسلام میں تکفیری فکر سعودی فنڈنگ پر پھیل رہی ہے، تکفیری فکر وہابیت نجدیت کی پیداوار ہے، لہٰذا پاکستان سے تکفیریت اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سعودی فنڈنگ کو روکنا انتہائی ضروری ہے۔ سعودی فنڈنگ رک جائے گی تو پاکستان سے فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کا خاتمہ ہو جائے گا۔ فرقہ واریت کا وجود تو پاکستان میں بالکل ہے ہی نہیں، حقیقت یہ ہے سعودی عرب کے نمک خوار تکفیری دہشتگرد عناصر ہیں، جو مملکت عزیز پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی ناپاک سازشوں میں مصروف ہیں، ان شاء اللہ بیدار شیعہ سنی مسلمان اپنے اتحاد و وحدت کے ذریعے فرقہ واریت پھیلانے کی اس سعودی سازش کو ماضی کی طرح اب بھی ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا پاکستان کے مسلم پڑوسی ممالک کے قریب آنا دراصل پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے، اس میں ایران کی کوئی سازش نہیں، ایران پاکستان کا دوست اور محسن اسلامی برادر ملک ہے، پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات مزید بڑھانے چاہیئے، لیکن پاکستان میں کچھ خارجی قوتیں ہیں، جو پاک ایران تعلقات کے خلاف ہیں، اسی لئے حال ہی میں ایرانی صدر کے دورے کے موقع پر سازشی عناصر نے اسے سبوتاژ کرنے کی سازشیں کیں، جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ جہاں تک بات ہے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کی تو، ایران نے پاکستان کو وہاں سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی، لیکن جب پاکستان نے ایرانی پیشکش کو قبول نہیں کیا تو پھر ایران نے بھارت کو موقع دیا، لیکن بھارت کو موقع دینے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ چاہ بہار بندرگاہ پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو ناکام بنانے کی سازش ہے، کیونکہ ایران نے واضح طور پر یہ اعلان کر دیا ہے کہ چاہ بہار اور گوادر بندرگاہ حریف نہیں بلکہ دوست بندرگاہیں ہیں، خدارا پاکستان میں ایران کے خلاف سازشیں بند کی جائیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور انکے مطالبات کی بھرپور مکمل حمایت کرتے ہیں اور انہیں سپورٹ کی یقین دہانی کراتے ہیں، ہم علامہ راجہ ناصر عباس صاحب کے ساتھ کھڑے ہیں۔نواز حکومت تو دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہی نہیں ہے، نواز لیگ کی پنجاب حکومت کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرتے ہیں، اب ایسی حکومت کے ساتھ آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تحا کہ ہم حضرت امام خمینی کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے قوم کو متحد و منظم کرکے اسلامی انقلاب پربا کیا اور اسلامی نظام دیا، میں اللہ تعالٰی سے دعا بھی کرتا ہوں کہ پاکستان کو بھی خمینی جیسا قائد عطا فرما، تاکہ پاکستان میں بھی حقیقی اسلامی انقلاب برپا ہوسکے، اسلامی نظام نافذ ہوسکے، تاکہ قوم متحد ہوسکے، دہشتگردی کا خاتمہ ہوسکے، تکفیریت کا خاتمہ ہوسکے۔ یہاں میں ایک بار پھر واضح کر دوں کہ امام خمینی کی قیادت میں آنے والا انقلاب کوئی مسلکی یا شیعہ انقلاب نہیں تھا، بلکہ خالصتاً ایک اسلامی انقلاب تھا، امام خمینی صرف شیعہ نہیں بلکہ عالم اسلام کے لیڈر تھے۔ لہٰذا سنی شیعہ مسلمان مل کر ایک اسے اسلامی انقلاب کیلئے جدوجہد کریں، جو امام خمینی کے اسلامی انقلاب کی مانند ہو۔