
ایکنا نیوز- روزنامه «نیویارک ٹایمز» اپنے ایک چار صفحے پر مشتمل آرٹیکل میں لکھتا ہے کہ مسلمان خواتین کو فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں دفاتر اور دوسرے مراکز میں جاب کے حوالے سے سخت مشکلات درپیش ہیں.
آرٹیکل فرانس میں بورقینی پر پابندی اور فرانس کے ساحلی علاقوں میں کشمکش پر بھی بحث کرتا ہے۔ فرانس میں بورقینی پر پابندی کو مختلف شہروں میں عدالت کی جانب سے چیلنج کیا گیا ہے.
فرنچ وزیر اعظم والس نے نیویارک ٹایمز پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس آرٹیکل نے فرانس کا درست چہرہ پیش نہیں کیا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ محدود اور منتخیب انٹرویو سے کسی ملک کی صورتحال پیش نہیں کی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب سے نیوریارک ٹایمز نے کہا ہے کہ آرٹیکل میں بارہ سو افراد سے آن لائن انگریزی،عربی اور فرنچ زبانوں میں بورقینی پر پابندی کے حوالے سے انٹرویو لیکر لکھا گیا ہے
والس نے اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دیکھانے کی کوشش کی گئی ہے جیسے فرانس میں مسلمان خواتین کی آواز دبا دی گئی ہے۔
نیویارک ٹایمز نے والس کے اعتراضات کو رد کرتے ہو ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی بات اور موقف پر قائم ہے۔