ایکنا نیوز-دنیا نیوز کے مطابقاتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے قائدین نے سندھ میں مدارس کے حوالے سے متوقع قانون سازی کو مسترد کرتے ہوئے اسے امتیازی اور مدارس پر خود کش حملہ قرار دیا ہے اور کہا کہ کسی کومدارس پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ہم حکومت سے مذاکرات اور وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کے لئے تیار ہیں ۔نیشنل ایکشن پلان میں مدارس کی رجسٹریشن کا ذکر ہے کسی امتیازی قانون کا نہیں ہے ۔ اہل مدارس اس ملک کی نظریاتی اور جغرافیا ئی سر حدوں کے حقیقی محافظ ہیں۔آج (جمعہ )کے خطبات میں اس مجوَّزہ بل پر احتجاج کیا جائے اور عوام کو سندھ حکومت کے مدارس دشمن عزائم کے بارے میں آگہی دی جائے گی۔ان خیالات کا اظہارجمعرات کو دارالعلوم نعیمیہ میں اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے ناظم اعلیٰ مفتی منیب الرحمن اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ اس موقع پر اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے قائدین مفتی محمد رفیق حسنی، مولانا امداد اللہ، مولانا عبید اللہ خالد ،مولانا قاری عبدالرشید ، مولانا ضیاالرحمن ،مولانا یاسین ظفر، مولانا افضل حیدری ، مولاناعبدالوحیداور مولانا ریحان امجدعلی نعمانی ودیگر بھی موجود تھے ۔قبل ازیں اتحاد کے صدر شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کی صدارت میں اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کا اہم اجلاس ہوا جس میں سندھ میں مدارس کے حوالے سے متوقع قانون سازی سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا اور فیصلے کئے ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمن اور مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ ایک سال قبل وفاق وزارتِ داخلہ ،نیکٹا اور دیگر اداروں کی شمولیت کے ساتھ اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان اور حکومتِ پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس میں مدارس کی رجسٹریشن اور اس کے لیے مطلوبہ اموراور ڈیٹا کلیکشن کے لیے باقاعدہ پرفارما اور ضمیمہ جات کی منظوری دی گئی ۔
سندھ حکومت نے جو مسوّد ہ قانون ترتیب دیا ہے ،اس کی ہمیں ہوا تک نہیں لگنے دی گئی ۔ صرف میڈیا سے رِس رِس کر جو خبریں آتی رہیں ،اُن کی رُو سے پہلے سے رجسٹرڈ مدارس کی از سر نو رجسٹریشن کی جائے گی حالانکہ حکومت کے ساتھ گزشتہ تین عشروں کے تمام معاہَدوں میں یہ طے ہے کہ جو مدارس سوسائٹی ایکٹ یا ٹرسٹ ایکٹ کے تحت پہلے سے رجسٹرڈ ہیں ، اُسے درست اور قانونی تسلیم کیا جائے گا