ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق ڈپٹی انسپیکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورائیہ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مشتبہ دہشت گرد قاری اسمٰعیل مبینہ طور پر ٹارگٹ کلنگ کی 15 وارداتوں میں ملوث ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں اور ہزارہ برادری کے افراد سمیت 40 افراد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ لشکر جھنگوی العالمی کے اس گروہ کے 6 دہشت گرد پہلے ہی مارے جاچکے ہیں جبکہ تین مفرورکارندوں کی تلاش جاری ہے، جن کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں اور عوام سے مدد اپیل کی ہے۔
ڈی آئی جی نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تنظیم کے اس گروہ کے، جس میں کالج کے طلبہ بھی شامل تھے، گرفتار دہشت گرد اور ان کے ساتھیوں نے دہشت گردی کی تربیت افغانستان سے لی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ گروہ بینک ڈکیتی اور بھتہ خوری میں بھی ملوث رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کوئٹہ میں، بالخصوص ہزارہ برادری کے خلاف کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ ماہ دہشت گردی کے تین مختلف واقعات میں ہزارہ برادری کے 5 افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد بھوک ہڑتال کی گئی اور احتجاجی دھرنا دیا گیا۔
ہزارہ برادری کے دھرنے میں بیٹھے افراد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔