![یوم ولادت امام رضا [ع] آج منایا جا رہا ہے / قارئین ایکنا کو مبارک یوم ولادت امام رضا [ع] آج منایا جا رہا ہے / قارئین ایکنا کو مبارک](/files/ur/news/2018/7/25/13717_546.jpg)
ایکنا نیوز- گیارہ ذی قعدہ کو نواسہ رسول حضرت امام علی رضا کی ولادت کا دن ہے اور اس دن پوری دنیا میں عاشقان رسول جشن میلاد مناتے ہیں ۔ اس حوالے سے مبارک باد پیش کرتے ہویے انکی زندگی اور سیرت پر مختصر تحریر پیش خدمت ہے ۔
علی رضا، موسی کاظم کے فرزند اور اہلِ تشیع کے آٹھویں امام تھے۔
علی نام , رضا لقب او ر ابوالحسن کنیت، حضرت امام موسیٰ کاظم والد بزرگوار تھے اور اس لیے آپ کوپورے نام ولقب کے ساتھ یاد کیا جائے تو امام الحسن علی بن موسیٰ رضا کہاجائے گا , والدہ گرامی کی کنیت ام البنین اور لقب طاہرہ تھا۔ نہایت عبادت گزار بی بی تھیں۔
![یوم ولادت امام رضا [ع] آج منایا جا رہا ہے / قارئین ایکنا کو مبارک یوم ولادت امام رضا [ع] آج منایا جا رہا ہے / قارئین ایکنا کو مبارک](/files/ur/news/2018/7/25/13721_665.jpg)
ولادت
11ذی القعدہ 148ھ میں مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی۔ اس کے تقریباًًً ایک ماہ قبل 15 شوال کو آپ کے جدِ بزرگوار امام جعفر صادق علیہ السّلام کی وفات ہوچکی تھی اتنے عظیم حادثہ مصیبت کے بعد جلد ہی اس مقدس مولود کے دنیا میں آجانے سے یقینًاگھرانے میں ایک سکون اور تسلی محسوس کی گئی۔
تربیت
آپ کی نشونما اور تربیت اپنے والد بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے زیر سایہ ہوئی اور اس مقدس ماحول میں بچپنا اور جوانی کی متعدد منزلیں طے ہوئی اور پینتیس برس کی عمر پوری ہوئی۔
![یوم ولادت امام رضا [ع] آج منایا جا رہا ہے / قارئین ایکنا کو مبارک یوم ولادت امام رضا [ع] آج منایا جا رہا ہے / قارئین ایکنا کو مبارک](/files/ur/news/2018/7/25/13719_796.jpg)
آپ ؑ کی پرورش
امام ؑ نے اسلام کے سب سے زیادہ باعزت وبلند گھرانہ میں پرورش پائی ،کیونکہ یہ گھر وحی کا مرکز ہے ۔یہ امام موسیٰ بن جعفر ؑ کا بیت الشرف ہے جو تقویٰ اور ورع وپرہیزگاری میں عیسیٰ بن مریم کے بیت الشرف کے مشابہ ہے ،گویا یہ بیت الشرف عبادت اور اللہ کی اطاعت کے مراکز میں سے تھا، جس طرح یہ بیت الشرف علوم نشرکرنے ا ور اس کو لوگوں کے درمیان شائع کرنے کا مرکزتھا اسی بیت الشرف سے لاکھوں علماء ، فقہاء،اور ادباء نے تربیت پائی ہے ۔اسی بلند وبالا بیت الشرف میں امام رضا ؑ نے پرورش پائی اور اپنے پدر بزرگوار اور خاندان کے آداب سے آراستہ ہوئے جن کی فضیلت ،تقویٰ اور اللہ پر ایمان کے لئے تخلیق کی گئی ہے ۔آپ ؑ کا عرفان اور تقویٰ امام رضا ؑ کے عرفان کی خصوصیت یہ تھی کہ آپ حق پر پائیدارتھے، اور آپ نے ظلم کے خلاف قیام کیا تھا، اس لئے آپ مامون عباسی کو تقوائے الٰہی کی سفارش فرماتے تھے اور دین سے مناسبت نہ رکھنے والے اس کے افعال کی مذمت فرماتے تھے، جس کی بناء پر مامون آپ کا دشمن ہوگیااور اس نے آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیااگرامام ؑ اس کی روش کی مذمت نہ کرتے جس طرح کہ اس کے اطرافیوں نے اس کے ہرگناہ کی تائید کی تو آ پ کا مقام اس کے نزدیک بہت عظیم ہوتا ۔اسی بناء پرمامون نے بہت جلد ہی آپ کو زہر دے کر آپ ؑ کی حیات ظاہری کا خاتمہ کردیا۔
آپ کے بلند وبالااخلاق
امام رضا ؑ بلند و بالا اخلاق اور آداب رفیعہ سے آراستہ تھے اور آپ کی سب سے بہترین عادت یہ تھی کہ جب آپ دسترخوان پر بیٹھتے تھے تو اپنے غلاموں یہاں تک کہ اصطبل کے رکھوالوں اور نگہبانوں تک کو بھی اسی دستر خوان پر بٹھاتے تھے۔ ابراہیم بن عباس سے مروی ہے کہ میں نے علی بن موسیٰ رضا ؑ کو یہ فرماتے سنا ہے :ایک شخص نے آپ سے عرض کیا :خداکی قسم آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے ہیں ۔امام ؑ نے یہ فرماتے ہوئے جواب دیا:اے فلاں! مت ڈر،مجھ سے وہ شخص زیادہ اچھا ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس کی سب سے زیادہ اطاعت کرے ۔خدا کی قسم یہ آیت نسخ نہیں ہوئی ہے۔امام ؑ اپنے جدرسول اعظم کے مثل بلند اخلاق پر فائز تھے جو اخلاق کے اعتبار سے تمام انبیاء سے ممتاز تھے ۔
امام (ع) کی مہربانی اور شفقت
امام کی مہربانی اور شفقت کے سلسلے میں یہ کہا جانا چاہئے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں یا اپنی شہادت کے بعد ہمیشہ مشکلات میں گرفتار، زائرین ، اور ملتمسین دعا سب کی دستگیری کی ہے اس طرح سے کہ
دلچسپ کلام میں، پہنچے ہوئے عارف علامہ "طباطبائی" ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سارے ائمہ علیہم السلام رؤف اور شفیق ہیں لیکن امام رضا علیہ السلام کی رأفت اور شفقت قابل حس ہے یعنی اس امام کے حرم میں یہ مہربانی زیاہ محسوس ہوتی ہے۔
اس مختصر فہرست کے اختتام پر شیخ "حسنعلی نخودکی اصفهانیٖ" سے حضرت امام رضا علیہ السلام کی اپنے زائرین جو زیارت کر تے ہوئے گذر جاتے ہیں، پرمہربانی اور شفقت کے بارے میں ایک مطلب کو ذکر کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں مکاشفہ یا (خواب) کی حالت میں، میں نے دیکھا کہ امام رضا (ع) اپنے روضے پہ کھڑے ہیں اور زائرین کرام ان کے سامنے سے گذر رہے ہیں اور حضرت ان سب کے سروں پر اپنا ہاتھ پھیر رہے ہیں لیکن جو چیز دلچسپ تھی اور جس نے شیخ کو متاثر کیا، یہ تھی کہ ان زائرین میں سے بعض جن کےسروں پراتنے پیار سے امام محبت کا ہاتھ پھیر رہے ہیں بنیادی طور پر انسان ہی نہی تھے بلکہ صرف انسان نما تھے.
آپ کی پیاری باتیں :
1۔ تین خصلتیں تین سنتیں
لا یکون المؤمن مؤمنا حتی تکون فیه ثلاث خصال، سنة من ربه،وسنة من نبیه،وسنة من ولیه. فاما السنة من ربه فکتمان سره ، و اما السنة من نبیه فمداراة الناس ، و اما السنة من ولیه فالصبر فی البأساء و الضراء۔
اصول کافی ، ج 3 ، ص (339)۔
مؤمن،حقیقی مؤمن نہیں ہے مگر یہ کہ اس میں تین خصلتیں پائی جاتی ہو : ایک سنتاللہ کی ،ایک سنتاپنے پیغمبر(ص) کی اور ایک سنت اپنے امام کی،خدا کی سنت اپنا راز چھپا کر رکھنا ہے، پیغمبر(ص) کی سنت لوگوں کے ساتھ رواداری اور نرم خوئی ہے اور اس کے امام کی سنت تنگدستی اور پریشانی کے وقت صبر ہے۔
2۔ چھپ کر نیکی کرنا
المستتر بالحسنة یعدل سبعین حسنة، والمذیع بالسیئة مخذول ، والمستتر بالسیئة مغفور له۔
اصول کافی ، ج 4 ، ص (160)۔
نیک کام چھپا کر کرنے والے کا ثواب ۷۰ حسنات کے برابر ہے، اعلانیہ بدی کرنے والا شرمندہ اور تنہا ہے اور (دوسروں کے) برے کام کو چھپانے والا بخشا ہوا ہے۔
3۔ انبیاء کا اخلاق
من أخلاق الانبیاء التنظف۔
انبیاء کے اخلاقیات میں نظافت اور پاکیزگی شامل ہے۔
تحف العقول ، ص (466)۔