IQNA

9:02 - August 17, 2018
خبر کا کوڈ: 3504978
بین الاقوامی گروپ: پنجاب اسمبلی جو پنجاب کے 11 کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں کا مرکز ہے، جہاں عوام کی قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں اور جہاں پر مسلسل پچھلے 10 سال سے مسلم لیگ (ن) برسراقتدار رہی، پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر وسیع عریض جگہ پر ایک مسجد تک نہ بنوا سکی۔

ایکنانیوز- اسلام ٹائمز۔ یہ ہے صوبہ پنجاب، جس کے 36 اضلاع میں 11 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل پنجاب کے عوام کے نمائندہ ایوان میں مسجد ہے نہ خطیب بلکہ امام تک موجود نہیں، نئے ممبران پہلے اور دوسرے اجلاس میں نماز پڑھنے کیلئے جائے نماز تلاش کرتے رہے جو نہ تھی اور نہ ملی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی جو پنجاب کے 11 کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں کا مرکز ہے، جہاں عوام کی قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں اور جہاں پر مسلسل پچھلے 10 سال سے مسلم لیگ (ن) برسراقتدار رہی پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر وسیع عریض جگہ پر ایک مسجد تک نہ بنوا سکی۔ گزشتہ روز جب الیکشن کے بعد پہلی بار نومنتخب اراکین اسمبلی حلف اٹھانے اجلاس میں آئے تو نماز ظہر کے وقت اراکین اسمبلی میں مسجد تلاش کرتے رہے، جس پر اسمبلی ملازمین نے انہیں بتایا کہ اسمبلی کے کیفے ٹیریا کو ختم کرکے فی الحال عارضی طور پر وہاں نماز پڑھنے کا انتظام کیا گیا ہے، جس پر اکثر اراکین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے ایوان میں مسجد کا نہ ہونا باعث حیرت اور افسوس ہے جبکہ اس سے بڑھ کر افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ پنجاب اسمبلی میں خطیب اور امام بھی نہیں جو عرصہ تقریبا ایک سال سے قاری محمد بخش کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے خالی پڑی ہوئی ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: