
ایکنا نیوز- «اطلس» نیوز افغانستان کے مطابق افغان رکن پارلیمنٹ محترمہ فوزیه کوفی نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات پر اعتراض کیا ہے۔
سابق رکن پارلیمنٹ فرخنده زهرا نادری نے بھی اس حوالے سے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے: پایدار امن اس وقت ممکن ہے جب تمام لوگ عزت و آبرو کی بقاء کو ممکن دیکھ سکے۔

فوزیہ کوفی- رکن پارلیمینٹ
اس سے پہلے بھی خواتین نے متعدد بار امن مذاکرات پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات میں خواتین کو نمایندگی نہ دینا افسوسناک ہے۔

فرخندہ زہرا نادری- سابق رکن پارلیمینٹ
گذشتہ روز طالبان رہنما «ملا برادر» خصوصی پاکستانی طیارے سے قطر گیے ہیں جہاں وہ مذاکرات میں اہم رہنما کے طور پر شامل ہوں گے۔

ملا عبدالغنی برادر- طالبان رہنما
طالبان کے اہم رہنما ولی سیداکبر آغا کے مطابق ملا برادر مذاکراتی نشست میں شامل ہے اور طالبان کی نمایندگی ان کو دی گیی ہے۔
امریکہ اور طالبا کے درمیان امن مذاکرات کا یہ پانچواں دور ہے جو قطر میں منعقد کیا گیا ہےاور طالبان کے کہنے پر انکے چند اہم رہنماوں کو بلیک لسٹ سے نکال کر عارضی طور پر انہیں سفر کی اجازت دی گیی ہے اور ملا برادر سے پہلے
ملا عبدالغنی کو بھی پاکستان سے آزاد کیا گیا تھا جو مذاکرات میں اہم رہنما کے طور پر کردار ادا کرسکتے ہیں۔/