
ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ کچھ دوست ممالک میں یہ غلط فہمی تھی کہ یہ اجلاس مسلم امہ کو تقسیم کرے گا۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ کے دوران اپنے ملائیشین ہم منصب مہاتیر محمد سے پتراجایا شہر میں ون آن ون ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد دونوں سربراہان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، اس دوران عمران خان نے کہا کہ ’میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں بہت افسردہ تھا کہ دسمبر کے وسط میں کوالالمپور میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہ کرسکا‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’بدقسمتی سے پاکستان کے بہت قریب ہمارے کچھ دوستوں کو یہ محسوس ہوا کہ شاید یہ کانفرنس امہ کو تقسیم کردے گی، جو واضح طور پر ایک غلط فہمی تھی کیوں کہ کانفرنس کے انعقاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مقصد امہ کی تقسیم نہیں تھا‘۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ کانفرنس میں شرکت کے ’منتظر‘ تھے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ممالک کا مغربی دنیا اور غیر مسلم ممالک کو اسلام کے بارے میں آگاہی دینا انتہائی اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تمام غلط فہمیوں کے پیشِ نظر چاہے وہ دانستہ ہوں یا غیر دانستہ، یہ اہم ہے کہ مسلمان ممالک ہمارے نبی ﷺ کے حقیقی پیغام کے بارے میں بتائیں‘۔
دوران گفتگو انہوں نے ایک مرتبہ پھر ملائیشیا میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔
تاہم آئندہ برس کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’بالکل وہ (شرکت) کریں گے کیوں کہ اب یہ بات واضح ہے کہ کوالالپمور اجلاس نے امہ کو تقسیم نہیں کیا، اگر کوئی چیز امہ کو متحد کرتی ہے تو وہ ضرور آنا پسند کریں گے‘۔