
الجزیرہ کے مطابق مسلمانوں پر مظالم میں «اندھرا ویهار» کا علاقہ سرفہرست شامل ہے جہاں سخت تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
واقعات میں کم از کم ۳۰ افراد ہلاک ہوئے جنمیں بعض خاندانوں کے متعدد افراد شامل ہیں۔ مسلمان یہاں سے پناہ لینے کے لیے بھاگ کر پانچ کلومیٹر دورمحله «مصطفی آباد» گئے مگر وہاں بھی انکو پناہ نہ ملی۔
«سعود علام» جو شمال مشرقی دھلی کے محله «شیو ویهار» کا رہنے والا ہے انکا کہنا تھا: گھر والوں کے ساتھ جان بچانے کے لیے بھاگنے پر مجبور ہوئے اور انکے پاس اب کچھ نہیں۔

الجزیره کے مطابق اکثر فرار ہونے والے مسلمان بعض بڑے عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہوئے ہیں جنکو بعض مسلمانوں تاجروں نے قایم کیے ہیں۔
مسلمان خاتون «ممتاز» جسکا گھر جلایا گیا ہے انہوں نے الجزیره مسے گفتگو میں کہا: گھر جلنے کی وجہ سے ہمارے تمام دستاویزات جل گیے ہیں اب میں شہریت قانون کے حوالے سے پروف کیسے پیش کروں؟

تشدد کے واقعات اس وقت سے شدت اختیار کرگیے ہیں جب شہریت قانون پاس کیا گیا جسکے مطابق ہندو اور دیگر اقلیتوں کو شہریت دینے کا اعلان کیا گیا مگر مسلمان اس سے محروم ہیں۔
اس قانون سے بیس ملین مسلمانوں کی شناخت کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

«رشید» جو محله شیو ویهار میں رہتے ہیں انکا کہنا تھا : میری دکان تمام سامانوں سمیت جلا دی گئی ہے، اب وہ ایک مضافاتی علاقے میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔
انکا کہنا تھا کہ منظم منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو جلایا گیا کیونکہ جلانے سے پہلے تمام مسلم گھروں اور دکانوں پر اورنج پرچم اور ہندی زبان میں علامات لگائے گیے۔
بھوتوں کا شہر
شیو ویهار کی وزٹ کرنے والے صحافی نے شیو ویهار کو ارواح کا شہر قرار دیا ہے. نقصانات چھپانے کے لیے اس علاقے کو محصور رکھا جارہا ہے حالانکہ مقامی مسلمان رہایشوں کے مطابق گھروں میں جلائے گیے متعدد لاشیں موجود ہیں۔
سوشل میِڈیا کے مطابق اس علاقے میں مساجد کو مکمل طور پر نذر آتش کیا گیا ہے جبکہ تمام ہندو عبادت خانے محفوظ ہیں۔
دھلی نو پولیس کے حوالے سے دعوی کیا جاتا ہے کہ انہوں نے تمام معاملوں میں جان بوجھ کو شدت پسندوں کو آزادی سے تمام کارروائیاں کرنے کی مہلت دی۔
مختلف افراد اور گواہوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے محله شیو ویهار میں مسلمانوں کے فون پر بھی جواب نہ دیا اور نو گھنٹے تک فون پر رابطے سے گریز کیا۔/